خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 93

* 1942 93 خطبات محمود الله سة رسول کریم صلی لی لی اور آپ کے ساتھ بارہ آدمی میدانِ جنگ میں رہ گئے۔باقی سب میدان جنگ سے بھاگ گئے۔تو دیکھو وہ لوگ جو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے تھے یا کفر کی حالت میں ہی جنگ میں شامل ہوئے تھے اور سارے عرب میں بہترین سپاہی سمجھے جاتے تھے جب انہوں نے تکبر سے کام لیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی جرآتیں نکال لیں اور وہ بے تحاشا بھاگ کھڑے ہوئے۔مگر پھر جو مومن تھے ان کو ان کے ایمان نے بچالیاور نہ نو مسلم جب بھاگے تو انہوں نے مکہ میں آکر دم لیا اور کئی منزلوں تک بھاگتے چلے آئے مگر مومن جو بھاگ رہے تھے وہ رک گئے اور بعض بھاگنا نہیں بھی چاہتے تھے مگر ان کی سواریاں بے قابو ہو رہی تھیں اور وہ بے تحاشا تیزی کے ساتھ بھاگتی چلی جارہی تھیں۔رسول کریم صلی یکی نے حضرت عباس کو بلایا اور فرمایا۔اے عباس زور سے آواز دو کہ اے انصار ! اے خدا کے رسول کے صحابیو! تم کو خدا کا رسول بلاتا ہے۔جس وقت حضرت عباس نے یہ آواز دی۔ایک صحابی کہتے ہیں یا تو ہماری یہ حالت تھی کہ ہمارے اونٹ اور گھوڑے بھاگتے چلے جاتے تھے، ہم انہیں موڑنے کے لئے اپنا پورا زور صرف کرتے تھے مگر وہ نہیں مڑتے تھے اور یا یہ حالت ہو گئی کہ جس وقت حضرت عباس کی آواز ہمارے کانوں میں پہنچی یوں معلوم ہوا جیسے قیامت کا دن ہے اور خدا تعالیٰ کھڑا ہوا روحوں کو بلا رہا ہے اور وہ قبروں سے اٹھ اٹھ کر اس کی طرف بھاگ رہی ہیں۔غرض حضرت عباس کی آواز کا ہمارے کانوں میں پہنچنا تھا کہ ہم اس طرح جوش سے بھر گئے کہ اڑ کر محمد صلی ال نام کے قدموں میں پہنچ جائیں۔چنانچہ وہ کہتے ہیں۔ہم میں سے بعض نے اپنے اونٹوں اور گھوڑوں کو موڑ لیا اور جن کی سواریاں نہ مڑیں انہوں نے اپنی تلواریں نکال کر سواریوں کی گردنیں کاٹ دیں اور دوڑتے ہوئے رسول کریم صلی ال نیم کے گرد جمع ہو گئے۔10 تو دیکھو ایک وقت خدا نے کہا۔نکال لو ان کے دلوں سے بہادری اور وہ نکال لی گئی مگر دوسرے ہی منٹ اس نے حکم دیا کہ بنا دو ان کو دنیا کا سب سے بڑا بہادر اور وہ اسی وقت دنیا کے سب سے بڑے بہادر بنائے گئے۔تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی سب کچھ آتا ہے انسانی طاقت کچھ نہیں کر سکتی۔اس لئے یاد رکھو دعائیں جب تک مضطر ہو کر نہ کی جائیں یعنی اس یقین کے ساتھ کہ دنیا کی ہر ضرورت کو پورا کرنے والی ہستی صرف اور صرف خدا کی ذات ہے۔