خطبات محمود (جلد 23) — Page 70
70 $1942 8 خطبات محمود اس یقین کے ساتھ دعائیں کرو کہ تمہاری ہر ضرورت صرف خدا تعالیٰ ہی پوری کر سکتا ہے (فرمودہ 10 اپریل 1942ء) تشہد، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میں نے احباب کو متواتر دعاؤں کی طرف توجہ دلائی ہے اور اب جو بعض دوستوں کی طرف سے رقعے اور خطوط ملتے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ جماعت کے ایک حصہ میں موجودہ زمانہ کے فتن کے لئے دعا کی تحریک پائی جاتی ہے مگر ایک حصہ کی دعا کافی نہیں۔ضرورت ہے کہ مردوں اور عورتوں اور بچوں سب کی ذہنیت کو دعا کے لئے بدلا جائے اور یہ ذہنیت اس رنگ میں بدلی جاتی ہے کہ سب سے پہلے دعا پر یقین اور ایمان پید اہو۔جو شخص بغیر یقین کے دعا مانگتا ہے اس کی دعا خدا تعالیٰ کے حضور میں مقبول نہیں ہوا کرتی۔ہو سکتا ہے کہ کبھی ایسے شخص کی دعا قبول ہو جائے صرف نمونہ کے طور پر اور اس کے دل میں یقین پیدا کرنے کے لئے لیکن قانون کے طور پر اسی شخص کی دعا قبول ہوتی ہے جس کے دل میں یقین ہوتا ہے کہ خدا میری سنے گا۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔آمَنْ يُجِيبُ الْمُضْطَر إذَا دَعَاهُ 1 که مضطر کی دعا کون سنتا ہے؟ اور پھر فرماتا ہے۔اللہ ہی سنتا ہے اور مضطر کے معنے عربی زبان میں یہ ہوتے ہیں کہ کسی کو چاروں طرف سے دھکے دے کر کسی طرف لے جائیں جو چاروں طرف سے رستہ بند پا کر کسی ایک طرف کو جاتا ہے۔اس کو منظر کہتے ہیں یعنی وہ ہر طرف آگ دیکھتا ہے۔اپنے دائیں دیکھتا ہے تو اسے آگ نظر آتی ہے، اپنے بائیں دیکھتا ہے