خطبات محمود (جلد 23) — Page 69
خطبات محمود 69 * 1942 اسی طرح نہ حملہ آور کو ہمارے ارادوں کی کچھ پرواہ ہے اور نہ دفاع میں ہمارا کچھ دخل ہے۔دنیا ہمارے ملک کے لئے سر دھڑ کی بازی لگائے بیٹھی ہے کہ کون اسے چھین کرلے جائے مگر ہماری رائے کی کسی کو بھی کوئی قدر نہیں۔ایسے حالات میں ہر وہ شخص جس کے دماغ میں عقل اور دل میں جس موجود ہے، محسوس کرے گا کہ ہمارے لئے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ ہم اسی درگاہ میں جاگریں جہاں غلام و آزاد اور چھوٹے بڑے کو مساوات حاصل ہے۔جو مظلوم کی داد رسی کرتا اور سب کی آواز کو سنتا ہے۔جس کا کوئی سہارا نہ ہو وہ اس کا سہارا ہوتا ہے اور جب کوئی بھی پکار کو سننے والا نہ ہو وہ سنتا ہے۔سوائے اس دروازہ کے ہندوستان بالخصوص احمدیت کے لئے کوئی چارہ کار نہیں۔کوئی آلہ ہمارے پاس حفاظت کا نہیں۔سوائے اس کے کہ اسی دروازہ کو کھٹکھٹائیں اور اسی سے مددمانگیں۔مگر کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ لوگ آج اس ڈر کو چھوڑ رہے ہیں۔جھوٹے آقاؤں نے ہمیں بیچ ڈالا اور جھوٹے مدعی ہماری ملکیت کے لئے بڑھ رہے ہیں لیکن وہ سچا آقاجو ہمیشہ ہماری آبرو اور عزت کا خیال رکھتا ہے اسے لوگوں نے بھلا دیا۔کاش لوگ اب بھی اس طرف متوجہ ہوں اور اس کی محبت کی چنگاریاں ان کے دلوں میں سلگنے لگیں۔وہ ہمیں خود ہی اپنی طرف کھینچ لے اور ہم بھولے ہوئے سبق کو یاد کر لیں۔ہماری کھوئی ہوئی متاع دوبارہ حاصل ہو جائے ور نہ ہمارا ٹھکانہ نہ اس دنیا میں کوئی ہے اور نہ اگلے جہان میں۔دنیوی لحاظ سے ہماری بربادی اور تباہی میں کوئی شک نہیں۔وہی ایک راستہ امید کا باقی ہے اور وہ ایک ایسی ذات ہے جو مایوسیوں کو امید سے، تکلیفوں کو راحتوں سے اور ناکامیوں کو کامیابیوں سے بدل ڈالتی ہے۔کاش ہمارے لئے یہ برکتوں کا رستہ کھل جائے اور اس کی رحمتیں ہمارے لئے نازل ہوں اور ان کے لئے جن کے دماغوں کو ابھی اس ایمان سے حصہ نہیں ملا جو خدا تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرتا ہے۔کاش وہ بھی اس ایمان کو حاصل کر سکیں اور اس در گاہ پر آجائیں جو بخشش اور غفران کی درگاہ ہے اور جو در حقیقت ایک ہی مقام ہے مخلوق کے آرام پانے کا۔“ (الفضل 11 اپریل 1942ء) ، 1: غنیم: دشمن