خطبات محمود (جلد 23) — Page 63
* 1942 63 خطبات محمود میں جماعت کے عہدیداروں کو بھی ان امور کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔میں خوش ہوں کہ امور عامہ والوں نے ہمت سے کام لیا اور فراہمی غلہ کے لئے بہت کوشش کی ہے۔مگر میں امید کرتا ہوں کہ وہ آئندہ اس سے بھی زیادہ قربانی کریں گے اور پوری کوشش کریں گے کہ ہر شخص کو غلہ میسر آتا رہے۔اس کے لئے رات دن، اگلے پہر اور پچھلے پہر کا کوئی سوال نہیں۔ہر وقت انہیں خدمت کے لئے تیار رہنا چاہئے۔اسی طرح وہ فوراً گورنمنٹ سے دریافت کریں کہ آیا دوسرے صوبہ سے غلہ منگوایا جا سکتا ہے یا نہیں۔اگر اس بات کی اجازت ہو تو ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے آسانی کے ساتھ اس کا انتظام کر سکتے ہیں۔لیکن بہر حال آئندہ کے لئے زمینداروں کو احتیاط سے کام لینا چاہئے اور سوائے اس غلہ کے جو فروخت کر چکے ہیں یا معاملہ کے لئے فروخت کریں باقی سب غلے کا اپنے پاس ذخیر ہ رکھیں اور کپڑے لٹنے کے لئے بھی اسے فروخت نہ کریں۔کیونکہ کپڑے لتے بھی تبھی کام آتے ہیں جب امن ہو ورنہ آرام کے وقت اگر انسان پانچ جوڑوں میں گزارہ کیا کرتا ہو تو مصیبت کے وقت دو جوڑوں میں ہی گزارہ کر لیتا ہے اور اگر پہلے دو جوڑوں میں گزراہ کرنے کا انسان عادی ہو تو پھر ایک جوڑہ میں ہی گزارہ کر لیا کرتا ہے اور اگر پہلے ایک جوڑے میں انسان گزارہ کیا کرتا ہو تو مصیبت کے وقت پھٹے پرانے کپڑے پہن کر بھی گزارہ کر لیتا ہے۔پس انہیں کپڑوں کے لئے بھی غلہ فروخت نہیں کرنا چاہئے۔صرف ایک دو سال کی بات ہے۔بظاہر یہ اب ایک سال کی بات ہے جس میں جنگ خاص پلٹا کھا جائے گی لیکن اگر دو سال بھی ہوں تو بھی دو سال انسان پھٹے ہوئے کپڑے پہن کر گزارہ کر سکتا ہے اس لئے گو غلہ کو غلہ کی صورت میں ہی رہنے دیں۔کیونکہ سونے کے بغیر گزارہ ہو سکتا ہے، چاندی کے بغیر گزارہ ہو سکتا ہے لیکن غلہ کے بغیر گزارہ نہیں ہو سکتا۔سال بھر اگر کسی انسان کو نگا رہنا پڑے تو وہ ننگا رہ سکتا ہے مگر بھوکا نہیں رہ سکتا۔حضرت آدم علیہ السلام کے متعلق بعض روایات میں آتا ہے کہ وہ جسم پر پتے لڑکا کر ستر ڈھانکتے تھے۔واقعہ کی صداقت کو تو خدا تعالیٰ ہی جانے مگر اس میں یہ سبق ضرور ہے کہ ضرورت کے موقع پر کپڑے کے بغیر بھی گزارہ ہو سکتا ہے لیکن غلہ نہ ہو تو گزارہ نہیں کر سکتا۔شیخ سعدی نے ایک نہایت ہی لطیف حکایت لکھی ہے۔وہ لکھتے ہیں کوئی بھوکا شخص تھا جسے کئی وقت کا فاقہ تھا۔وہ