خطبات محمود (جلد 23) — Page 62
$1942 62 خطبات محمود بعض اضلاع کی جماعتوں نے اپنے اپنے حلقوں میں مرکز تجویز کرنے کا انتظام کر لیا ہے۔مگر جہاں مرکز نہ بن سکے وہاں کے دوستوں کو قادیان آنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اس وقت قادیان میں کئی لوگوں نے اپنی بیویوں اور بچوں کو بھیج دیا ہے اور کئی بھیجنے والے ہیں۔ان سب کی خبر گیری کرنا اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا ہماری جماعت کا فرض ہے۔ہمیں بعض غیر احمدیوں کی طرف سے بھی اطلاع ملی ہے کہ وہ بھی اپنے بیوی بچے قادیان میں بھیجنا چاہتے ہیں۔ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں اور ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان مصیبت کی گھڑیوں میں اپنے نمونہ سے اس بات کو ثابت کر دیں گے کہ ہماری ہمدردی کسی خاص جماعت سے وابستہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق سے ہمدردی کرنا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے لئے اپنی جماعت کے افراد کی جان، مال اور ناموس کی حفاظت کرنازیادہ ضروری ہے کیونکہ ان کا اور کوئی نگران نہیں لیکن اگر کوئی غیر شخص ہم پر اعتماد کرتا ہے اور وہ اپنی جان، مال اور ناموس کی حفاظت ہمارے سپر د کرتا ہے تو خطرہ کے اوقات میں جس طرح ہم اپنی جان مال اور ناموس کی حفاظت کریں گے اسی طرح ہم دوسروں کی جان مال اور ناموس کی بھی حفاظت کریں گے۔پس میں پھر جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے فرض کو سمجھیں اور ان دنوں میں بہت ہی خشیت اللہ سے کام لیں۔ہر شخص جس قدر زیادہ سے زیادہ قربانیاں کر سکتا ہے اسی قدر قربانیاں کرے اور مصیبت کے وقت اپنے آپ کو دوسروں کا مید اور معاون ثابت کرے۔مالداروں کو بھی سمجھ لینا چاہئے کہ خطرہ کے وقت دوسروں کی مدد کی سب سے زیادہ ضرورت انہی کو ہو گی۔غریب کا کیا ہے وہ تو تہ بند اٹھائے گا اور چل پڑے گا۔زیادہ دقت مالداروں کو ہی پیش آئے گی۔پس اگر وہ اس تکلیف کے وقت دوسروں کے کام نہیں آتے تو ان کا کوئی حق نہیں ہو گا کہ وہ مصیبت کے وقت ہم کو اپنی مدد کے لئے بلائیں۔اس وقت ہم انہیں یہی کہیں گے کہ اپنے خزانے لے جاؤ اور جہاں رکھ سکتے ہو رکھ دو۔اگر روپے کی کوئی قیمت تھی تو وہ تکلیف کے وقت کام آنا چاہئے تھا۔یوں اسلام میں مال و دولت جمع کرنے کی اجازت ہے۔میں خود زمیندار ہوں اور اپنے پاس زمینیں رکھتا ہوں مگر مصیبت کے وقت کسی کی کوئی ملکیت نہیں ہوتی۔اس وقت سب کو مل کر کام کرنا چاہئے اور یہی اسلام کی تعلیم ہے۔