خطبات محمود (جلد 23) — Page 542
* 1942 542 خطبات محمود کرتے تھے کہ کون کون منافق ہے اور رسول کریم صلی یہ کام نہیں بتا دیا کرتے تھے۔صحابہ کہتے ہیں ہمیں معلوم نہیں تھا کہ کون کون منافق ہے مگر حذیفہ ہمیشہ رسول کریم صلی ایم کے پیچھے پڑے رہتے تھے کہ یا رَسُولَ اللہ مجھے منافقوں کے نام بتا دیجئے ، ایسا نہ ہو کہ میں کسی منافق کے پیچھے نماز پڑھ بیٹھوں اور میری نماز خراب ہو جائے اور رسول کریم صلی ا لم ان کے اصرار کو دیکھ کر انہیں منافقوں کے نام بتا دیا کرتے تھے۔صحابہ کہتے تھے چونکہ حذیفہ کو منافقوں کا علم تھا اس لئے ہم ہمیشہ تاڑتے رہتے تھے کہ حذیفہ کس کا جنازہ نہیں پڑھتے۔جس کا جنازہ موجود ہونے کے باوجود حضرت حذیفہ نہیں پڑھا کرتے تھے اس کا جنازہ ہم بھی نہیں پڑھتے تھے اور سمجھ جاتے تھے کہ وہ منافق تھا۔2 اب دیکھو۔ہمیں معلوم نہیں کہ کون کون منافق تھا۔حضرت حذیفہ کو بے شک معلوم تھا مگر انہوں نے کسی کو بتایا نہیں۔اب حدیثوں میں جب ان صحابہ کا نام آتا ہے تو ہم کیا کہتے ہیں۔ہم یہی کہتے ہیں رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ اور نہ معلوم ہماری ان دعاؤں سے کتنے منافق بخشے جاچکے ہوں کیونکہ جب سارے مسلمان ان کا نام آنے پر رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ کہتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو تو غالباً خدا تعالیٰ ان میں سے کئی کے قصوروں کو معاف کر چکا ہو گا مگر بہر حال باوجود اس کے کہ بعض لوگ منافق تھے اور رسول کریم صلی للہ ہم کو ان کا علم تھا۔آج تک سارے مسلمان ان کا نام آنے پر رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ کہتے ہیں حالانکہ یہ بھی ممکن ہے کہ خدا نے اب تک انہیں نہ بخشا ہو۔بہر حال صحابیت کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے ان کی دنیا میں عزت قائم کر دی اور سینکڑوں سال تک ان کی اولادوں نے اپنے باپ دادا کی صحابیت کی وجہ سے شاہی درباروں میں بڑے بڑے انعامات حاصل کئے۔ایک شخص آتا اور کہتا میں فلاں صحابی کا بیٹا ہوں۔دوسرا شخص آتا اور کہتا میں فلاں صحابی کا بیٹا ہوں اور بادشاہ فوراً آواز دیتا کہ لانا اس کو میرے پاس اور جب وہ اس کے پاس لایا جاتا تو بادشاہ اسے بہت بڑا انعام دیتا۔اس وجہ سے کہ وہ ایک صحابی کی اولاد میں سے ہے مگر خدا تعالی کے فرشتے کہتے ہیں رَضِيَ اللهُ عَنْہ کہاں۔وہ تو منافق اور مردود تھا۔غرض تمہیں وہ چیز مفت میں حاصل ہو گئی ہے جو تمہارے لئے اور تمہاری اولا دوں کے لئے بہت بڑی عزت اور خیر و برکت کا ذریعہ ہے۔اگر یہ نعمت تمہیں باطن میں بھی میسر آگئی اور