خطبات محمود (جلد 23) — Page 496
خطبات محمود 496 * 1942 چلنا بند ہو جائے۔ویسے بھی جب تک کوئی بڑی پوزیشن والا آدمی ان کو نہ بلائے آنا مناسب نہیں سمجھتے۔بعض بڑے بڑے لوگوں کو جب چودھری ظفر اللہ خان صاحب بلاتے ہیں تو وہ آ جاتے ہیں مگر دوسرے جو ان سے واقف نہیں اور جن کو وہ نہیں بلاتے ان کے آنے کی کوئی خاص صورت نہیں۔مگر ہم لٹریچر کے ذریعہ ان تک پہنچ سکتے ہیں۔اس لئے نہ صرف یہ کہ ہمیں ان تک لٹریچر پہنچانا چاہئے بلکہ جو لٹریچر بھیجا جائے وہ ایسا مکمل ہونا چاہئے کہ اسلام اور احمدیت کا صحیح نقشہ پڑھنے والے کی آنکھوں کے سامنے آجائے۔اس کے لئے میں الفضل کے عملہ اور نظارت دعوۃ و تبلیغ کو جس کے ماتحت وہ ہے اور دفتر تحریک جدید کو جس کے ماتحت سن رائز ہے توجہ دلاتا ہوں کہ ان پرچوں کو زیادہ سے زیادہ مکمل اور دلچسپ بنانے کی کوشش کریں۔ان کے علاوہ میں سلسلہ کے مضمون نگاروں کو بھی جنہیں اللہ تعالیٰ نے اچھا لکھنے کی توفیق دی ہے یہ کہتا ہوں کہ وہ مختصر عبارتوں میں ایسے مضامین لکھیں کہ جن سے یہ پرچے زیادہ دلچسپ اور زیادہ مفید بن سکیں اور لوگوں کی توجہ تبلیغ کی طرف کھینچ سکے۔خالی دلچپسی بھی کوئی چیز نہیں۔یہ تو بھانڈ پن ہی ہے بلکہ دلچپسی کا مطلب یہ ہے کہ دین کے معاملات کو ایسی عمد گی اور خوبصورتی سے پیش کیا جائے کہ لوگوں کے دل ان کی طرف مائل ہوں۔قرآن کریم سے زیادہ دلچسپ کتاب اور کوئی نہیں ہو سکتی مگر اس میں کھیل تماشہ کی کوئی بات نہیں۔پھر بھی کا فر یہ کہتے تھے کہ کانوں میں انگلیاں ڈال لو۔خوب شور مچاؤ تا یہ کلام کانوں میں نہ پڑے۔وہ آنحضرت صلی نیم کو ساحر 2 اور قرآن کریم کو سحر کہتے تھے۔یہ دلچسپی کی ہی بات ہے اور اس کا مطلب یہی ہے کہ جو سنے اس پر ضرور اثر ہوتا ہے۔بشر طیکہ اس کے دل میں خدا کا خوف ہو۔ہاں جس کا دل ہی بیمار ہو اس پر کوئی اثر نہیں ہو سکتا جس طرح کوئی کھانا خواہ کس قدر لذیذ اور عمدہ کیوں نہ ہو۔بیمار آدمی کو اس کی طرف رغبت نہیں ہوتی۔پس جن کے دل بیمار نہ ہوں۔ان پر خدا تعالیٰ کے کلام کا اثر ضرور ہوتا ہے اور جن کے دل بیمار نہیں اور جو دل سے مذہب کو سچا سمجھتے ہیں ان کے لئے قرآن کریم سحر کا کام دیتا ہے اور ایسا اثر کرتا ہے کہ گویا جادو ہے جو اپنی طرف کھنچے لئے جارہا ہے۔اسی وجہ سے مکہ کے لوگ رسول کریم صلی ا لیا کو ساحر اور قرآن کریم کو سحر کہتے تھے اور اسی وجہ سے سب انبیاء کو ساحر کہا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو