خطبات محمود (جلد 23) — Page 495
* 1942 495 خطبات محمود یہاں آئے اور جب مجھ سے ملے تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ باہر آپ لوگوں کے متعلق بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔چاہئے کہ آپ باہر سے لوگوں کو بکثرت یہاں بلایا کریں اور یہاں کے حالات ان کو دکھائیں مگر قادیان میں آنا ہر ایک کا کام نہیں۔ہاں اخبار اور لٹریچر ان تک پہنچایا جاسکتا ہے۔کچھ عرصہ ہوا چودھری ظفر اللہ خان صاحب کے ساتھ گور نمنٹ آف انڈیا کے ایک بڑے افسر قادیان آئے۔وہ چودھری صاحب کے دوست تھے۔یہاں سے واپس جانے کے بعد ایک دفعہ وہ چودھری صاحب سے ملے تو مذاق میں کہنے لگے کہ آپ لوگوں کو چاہئے مجھے تنخواہ دیا کریں۔چودھری صاحب نے پوچھا کیوں ؟ وہ کہنے لگے کہ میں آپ لوگوں کا مبلغ ہوں۔وہ ہندو تھے اور گورنمنٹ آف انڈیا میں ایک بڑے افسر تھے۔وہ کہنے لگے کئی لوگ میرے پاس آتے ہیں اور مختلف باتیں ہوتی رہتی ہیں۔میں نے محسوس کیا ہے کہ ہر ایک کا دل آپ لوگوں کے خلاف بغض سے بھرا ہوا ہے۔جس سے بھی ذکر آئے وہ برابھلا کہنے لگ جاتا ہے۔بعض مجھ پر بھی اعتراض کرتے ہیں کہ آپ قادیان کیوں چلے گئے۔میں ان سے کہا کرتا ہوں کہ سچائی معلوم کرنے کے دو طریق ہو سکتے ہیں یا تو آدمی لٹریچر کو پڑھے یا خود ان لوگوں کے حالات کو دیکھے۔لٹریچر کے لحاظ سے میں اور آپ برابر ہیں۔نہ میں نے کوئی لٹریچر پڑھا ہے نہ آپ نے۔اس لئے اس لحاظ سے نہ آپ کو اعتراض کا حق ہے اور نہ مجھے۔باقی رہ گیا دوسر ا ذریعہ۔سو میں خود وہاں جا کر دیکھ آیا ہوں مگر آپ نے نہیں دیکھا۔میں دیکھ آیا ہوں کہ وہاں بہت اچھا کام ہو رہا ہے اس لئے میر احق ہے کہ کوئی دعویٰ کر سکوں۔آپ کا کوئی حق نہیں کیونکہ آپ نے دیکھا نہیں۔ایسے آدمی کی بات کا بہت اثر ہوتا ہے۔لوگ سمجھتے ہیں یہ ہندو ہے، اتنا بڑا افسر ہے اور یہ اجنبی ہو کر تعریف کرتا ہے ، غلط نہیں کہتا ہو گا۔پس حقیقت معلوم کرنے کے دو ہی طریق ہیں یا تو یہاں آکر کوئی دیکھے اور یا لٹریچر کا مطالعہ کرے۔یہاں آنا تو مشکل ہے گو جو آتے ہیں وہ ضرور اثر لے کر جاتے ہیں۔جلسہ پر جو غیر احمدی یہاں آتے ہیں ان میں سے ساٹھ ستر فیصدی بیعت کر لیتے ہیں مگر ہر ایک یہاں آ نہیں سکتا بالخصوص بڑے لوگوں کا آنا تو بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔وہ اپنے آپ کو ایسا مشغول سمجھتے ہیں کہ ان کا خیال ہوتا ہے ساری دنیا انہی کے سہارے پر چل رہی ہے۔اگر وہ اپنا کام نہ کریں تو دنیا کا کام