خطبات محمود (جلد 23) — Page 485
* 1942 485 خطبات محمود پیچھے رہیں۔انہیں لازما آگے بٹھایا جائے گا اور مجھ پر میرے آقا کی طرف سے جو ذمہ دواریاں ہیں ان کی وجہ سے میں اس بارہ میں بالکل مجبور ہوں۔انہوں نے کہا ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا نے جو مظالم کئے تھے اس کے نتیجہ میں یہی کچھ ہونا چاہئے تھا مگر ہم آپ سے یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ کیا اس ظلم اور تعدی کا ہماری جانوں کے لئے کوئی کفارہ نہیں؟ حضرت عمررؓ تھوڑی دیر خاموش رہے اس کے بعد آپ نے سر اٹھایا۔اس وقت قیصر کی فوجوں سے اسلامی فوجوں کی جنگ ہو رہی تھی۔آپ نے شام کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔وہاں ایک جنگ ہو رہی ہے تم اگر اس جنگ میں چلے جاؤ تو شاید ان گناہوں کا کفارہ ہو جائے۔انہوں نے اسی وقت اپنی سواریاں کسیں اور سب کے سب اس جنگ میں شامل ہونے کے لئے چلے گئے اور تاریخ بتاتی ہے کہ وہ سب کے سب وہیں مارے گئے ، واپس نہیں آئے۔تو دیکھو یہ عزت تھی جو خدا تعالیٰ نے ان کو ان کی قربانیوں کے بدلہ میں دی۔اگر جس وقت بلال اور مصعب اور یاسر کو تپتی ہوئی ریت پر لٹایا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا تم کہولات اور منات کی پرستش میں ہی عزت ہے۔وہ کہہ دیتے کہ ہاں لات اور منات کی پرستش میں ہی عزت ہے۔تو کیا تم سمجھتے ہو ، انہیں یہ عزت حاصل ہو سکتی تھی۔اسی طرح جس وقت انہیں پتھروں پر گھسیٹا جا تا تھا، انہیں مارا پیٹا جاتا تھا۔اگر وہ اپنی جانوں کی پر واہ کرتے ہوئے کفار کی ہاں میں ہاں ملا دیتے اور جب انہیں کہا جاتا کہ کہو محمد محجھوٹا ہے تو وہ کہہ دیتے محمد (صلی ) نَعُوذُ بِاللَّهِ ، جھوٹا ہے تو کیا تم سمجھتے ہو ان کو یہ عزت حاصل ہو سکتی تھی؟ بلال کو رسول کریم صلی ایم نے اذان پر مقرر کیا ہوا تھا وہ حبشی تھے اور اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلهَ اِلَّا الله نہیں کہہ سکتے تھے بلکہ اسْهَدُ اَنْ لَّا إلهَ إِلَّا الله کہتے۔بعض لوگ ہنستے کہ انہیں صحیح لفظ بھی ادا کرنا نہیں آتا۔ایک دفعہ رسول کریم صلى الل ولم نے لوگوں کو اسی طرح بلال کی اذان پر ہنستے ہوئے سنا تو فرمایا۔خدا عرش پر بلال کی اذان کی تعریف کرتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کو “ ” اور “س” سے کوئی غرض نہیں۔خدا تعالیٰ تو ان پتھروں کو دیکھ رہا تھا جن پر بلال کو گھسیٹا جاتا تھا مگر باوجود اس شدید تکلیف کے وہ یہی کہتے که اَسْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ وَ اسْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ لوگوں کی نظروں سے وہ ریت کے ذرے اوجھل تھے، لوگوں کی نظروں سے وہ ریت کے سة