خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 484 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 484

خطبات محمود 484 * 1942 حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک دفعہ اپنی خلافت کے زمانہ میں مکہ میں حج کے لئے گئے اور مکہ کے بڑے بڑے سرداروں اور رؤساء کے لڑکے جواب سلام قبول کر چکے تھے حضرت عمر کے ملنے کے لئے آئے۔حضرت عمرؓ نے ان کا مناسب احترام کیا اور ان سے باتیں شروع کر دیں۔ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ انہی غلاموں میں سے جو مکہ کی گلیوں میں پتھروں پر گھسیٹے جاتے تھے بعض صحابہ حضرت عمر کی ملاقات کے لئے آئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان نوجوانوں سے کہا ذرا پیچھے ہٹ جاؤ۔وہ پیچھے ہٹ گئے۔اتنے میں ایک دوسر اغلام آگیا، پھر تیسر اغلام آگیا اور پھر چوتھا غلام آگیا۔بہت سے غلام صحابہ اس وقت مکہ میں جمع تھے اور سب ایک ایک کر کے حضرت عمر کی ملاقات کے لئے آنے شروع ہو گئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہر غلام کے آنے پر ان نوجوانوں سے کہتے کہ ذرا پیچھے ہٹ جاؤ یہاں تک کہ ہوتے ہوتے وہ جو تیوں تک جا پہنچے۔یہ دیکھ کر وہ اُٹھ کر باہر چلے گئے اور انہوں نے باہر آکر ایک دوسرے سے کہا دیکھا آج ہماری کیسی بے عزتی ہوئی ہے۔وہ غلام جو کل تک ہمارے گھروں میں جھاڑو دیا کرتے تھے ، جو ہمارا پانی بھر ا کرتے تھے ، جو ہمارے لئے گھاس کھود کر لایا کرتے تھے، جو ہمارے گھوڑوں کے لئے چارہ تیار کیا کرتے تھے آج بادشاہی دربار میں ان کو آگے بٹھایا گیا اور ہمیں ہر بار پیچھے ہٹا دیا گیا۔مگر اب وہ ایمان لا چکے تھے اور اب شیطانی وساوس ان پر پورا غلبہ نہیں پاسکتے تھے۔ان میں سے ایک نوجوان بولا اور اس نے کہا۔اس میں کس کا قصور ہے؟ ہمارے اور ہمارے باپ دادوں کا یا حضرت عمر کا؟ انہوں نے کہا قصور تو ہمارے باپ دادوں کا ہی ہے۔اس نے کہا تو پھر اس میں شکوے کی کونسی بات ہے۔انہوں نے کہا ہم شکوہ نہیں کرتے ، ہم صرف یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ کیا اس ذلت کو دور کرنے کا کوئی طریق نہیں۔ان میں سے ایک نے کہا کہ چلو یہی بات حضرت عمرؓ سے دریافت کر لیتے ہیں۔چنانچہ وہ پھر سب کے سب حضرت عمرؓ کی مجلس میں گئے اور ان سے کہا کہ ہم آپ سے ایک بات دریافت کرنا چاہتے ہیں۔حضرت عمرؓ سمجھ گئے اور انہوں نے کہا میں امید کرتا ہوں کہ تم میرے آج کے سلوک سے بُرا نہیں مناؤ گے کیونکہ میں اس میں بالکل مجبور ہوں۔یہ وہ لوگ ہیں جو محمد صل الله کے دربار میں معزز سمجھے جاتے تھے اس لئے یہ نہیں ہو سکتا کہ ان کے خادم کے دربار میں وہ -