خطبات محمود (جلد 23) — Page 455
* 1942 455 خطبات محمود ایک الگ وجود ہوتا ہے مگر وہ سمندر میں ملا ہوا ہوتا ہے اسے ہم الگ کر سکتے ہیں مگر وہ صرف ظاہر میں الگ ہو گا۔اس کی حقیقت سمندر سے الگ نہیں ہو سکتی۔جب بھی اسے سمندر میں ڈالو گے وہ اپنا وجود کھو دے گا۔اسلام اور احمدیت اسی قسم کے اتحاد ہو چاہتی ہے اور یہ اتحاد ایمان کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتا اور دنیا میں امن بھی اسی اتحاد سے ہی پید اہو سکتا ہے۔جب یہ اتحاد پیدا ہو جائے تو لڑائی کی اصل وجوہ دور ہو جاتی ہیں، دلوں میں ایسی محبت و اخلاص پیدا ہو جاتا ہے کہ باوجود لڑائی جھگڑوں کے انسان کا دل محبت سے خالی نہیں ہوتا۔یوں تو لڑائیاں بھائیوں بھائیوں میں بھی ہو جاتی ہیں۔ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ امام حسن و امام حسین میں ایک دفعہ جھگڑا ہو گیا اور امام حسین نے زیادتی کی۔دوسرے دن ایک شخص نے دیکھا کہ امام حسن ، امام حسین کے گھر کی طرف جارہے ہیں۔اس نے کہا حسن کہاں جاتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا حسین کے ہاں معافی مانگنے جارہا ہوں۔وہ شخص اس مجلس میں موجود تھا جس میں جھگڑا ہوا تھا۔اس نے کہا میر ا تو خیال ہے کہ آپ حق پر ہیں اور حسین کی زیادتی تھی۔امام حسن نے کہا ٹھیک ہے مگر میں نے سنا ہے کہ رسول کریم صلی الیکم نے فرمایا کہ جب دو بھائی لڑ پڑیں تو صلح میں پیش قدمی کرنے والا پانچ سو سال پہلے جنت میں جائے گا۔اس پر میں نے دل میں کہا کہ میں ہوں بھی حق پر اور حسین نے مجھ پر زیادتی بھی کی۔اب اگر وہ پہلے صلح کے لئے آگئے تو وہ جنت میں بھی مجھ سے پہلے چلے جائیں گے اور میرے لئے یہ کتنے شرم کی بات ہے کہ اس دنیا میں بھی حسین نے مجھ پر ظلم کیا اور جنت میں بھی وہی پہلے چلے جائیں۔اس لئے میں صلح کرنے خود ہی جارہا ہوں تا کم سے کم جنت میں تو میں پہلے جاسکوں۔اب دیکھو، یہ خیالات کا اتحاد تھا جس نے دلوں میں ایسا نور پیدا کر دیا تھا کہ اگر کبھی اختلاف بھی ہو جاتا تھا تو ایک دوسرے کے مخالف نہ ہو جاتے تھے۔حضرت علی، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر میں لڑائی ہوئی۔حضرت طلحہ اور زبیر ایک طرف تھے اور حضرت علی ایک طرف۔لڑائی ہو رہی تھی کہ ایک شخص دوڑا دوڑا آیا اور حضرت علی سے کہا کہ میں آپ کو بشارت دیتا ہوں۔آپ نے پوچھا کس بات کی۔اس نے کہا آپ کے دشمن طلحہ کو میں مار کر آیا ہوں۔اب دیکھو لڑائی ہو رہی ہے اس بات کے لئے ایک دوسرے کے بالمقابل کھڑے ہیں کہ ایک دوسرے کو مار دیں گے ،