خطبات محمود (جلد 23) — Page 454
* 1942 454 خطبات محمود اور یا پھر اس کے اندر اتنی شرافت ہو کہ وہ تحقیق کی طرف مائل ہو جائے۔اصرار اور تکرار کے دو ہی نتائج ہو سکتے ہیں یا برے اخلاق ظاہر ہو جائیں اور وہ لڑ پڑے اور یا پھر سستی کو چھوڑ کر صداقت کی طرف مائل ہو لیکن اب ہماری تبلیغ کا عام طور پر یہ رنگ نہیں ہے اور در حقیقت آج اس کی پہلے کی نسبت بہت زیادہ ضرورت ہے۔ہمیں اس کی ضرورت نہیں کہ لوگ ہماری تعریف کریں۔اگر لوگ ہماری تعریف کریں گے تو ہمیں کیا دے دیں گے۔ہمیں تو خدا تعالیٰ نے دنیا کے نظام کو توڑنے کے لئے کھڑا کیا ہے اور ہم نے ان لوگوں کے جھوٹے خیالات کے گھر کو بھی توڑنا ہے جو ہماری تعریف کریں کیونکہ جب تک پرانی عمارت گرانہ دی جائے ہماری نئی عمارت تعمیر نہیں ہو سکتی اور اس وقت تک ہماری اور ان کی خیالات میں صلح نہیں ہو سکتی جب تک کہ ان کے خیالات کی عمارت کو توڑ کر اس کی جگہ ہم اپنے خیالات کی عمارت کھڑی نہ کر دیں۔اس وقت تک ہم ان میں مل کر بیٹھیں گے بھی، ان کی مجالس میں بھی جائیں گے، اکٹھے بھی ہوں گے مگر وحدت خیال جو مذہب کا خاصہ ہے اس وقت تک پیدا نہ ہو سکے گی۔مذہب مل بیٹھنے پر خوش نہیں ہو تا بلکہ مل جانے پر خوش ہوتا ہے۔مل بیٹھنے کو تو ہندو، عیسائی، مسلمان سب مل بیٹھتے ہیں مگر مذہب اس پر خوش نہیں ہو تا۔مذہب اس پر خوش ہوتا ہے کہ باہم مل جائیں جس طرح پانی پانی میں مل جاتا ہے۔مل بیٹھنا کوئی چیز نہیں، مل بیٹھنے کو تو سب لوگ جو یہاں بیٹھے ہیں ملے بیٹھے ہیں۔مگر کوئی منافق ہے، کوئی بڑا مومن ہے، کوئی چھوٹا مومن ہے اس طرح بیٹھنے کی مثال تو ایسی ہی ہے جیسے سطح آب پر پانی کے بھرے ہوئے مشکیزے تیر رہے ہوں لیکن جو مخلص ہوتے ہیں، نظر تو وہ بھی الگ الگ ہی آتے ہیں مگر در حقیقت ان کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے دریا یا سمندر میں پانی ہو، کوئی دریا سیدھا نہیں بہتا، اس کے گوشے اور کنارے ادھر ادھر نکلے ہوتے ہیں مگر وہ الگ الگ پانی نہیں ہوتے بلکہ اسی ایک دریا کا پانی ہوتا ہے۔اسی طرح مخلص مومن شکلوں میں تو الگ الگ ہوتے ہیں مگر ان کے دماغوں میں ایسی رو پیدا ہوتی ہے کہ جس سے وہ سارا پانی ایک ہی ہوتا ہے۔میں نے بتایا ہے کہ اسی مجلس میں بعض لوگ ایسے ہیں کہ جس طرح پانی کے مشکیزے سمندر کی سطح پر تیر رہے ہوں لیکن باقی لوگ جو مخلص ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے سمندر کے پانی کے قطرے ہوں۔ہر قطرہ کا