خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 451

خطبات محمود 451 * 1942 ایک عرصہ تک ہوتا ہے اور احمدیت کو بھی ایسے حالات میں سے گزرنا پڑ سکتا ہے کہ دشمن اسے تلوار سے مٹانے کی کوشش کریں اور اس لئے احمدیوں کو بھی تلوار کا جواب تلوار سے دینا پڑے۔آج دشمن دلائل سے حملہ کرتا ہے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی دلائل سے مقابلہ کیا اور آپ کی جماعت بھی دلائل سے مقابلہ کر رہی ہے۔پس ہمارے لئے اشاعت اسلام کا ذریعہ تبلیغ کے سوا کوئی نہیں۔پہلے انبیاء کے زمانہ میں بھی ترقی کا ذریعہ تبلیغ ہی رہی ہے مگر ایسا بھی ہو تارہا ہے کہ ان کے دشمن خود ہی دوسرے ذرائع بھی مہیا کر دیتے رہے۔اس کی کوئی ایک مثال بھی پیش نہیں کی جاسکتی کہ کبھی کسی نبی نے جبر سے کام لیا ہو اور تلوار اٹھائی ہو اور کسی کے سر پر تلوار رکھ کر کہا ہو کہ مانو ورنہ قتل کر دیئے جاؤ گے۔یہ بات خدا تعالیٰ کی صفات کے خلاف ہے اور انبیاء خدا تعالیٰ کی صفات کے خلاف کبھی کوئی کام نہیں کرتے۔جب بھی کسی نبی نے تلوار اٹھائی اور لڑائی کی ہے دفاع کے طور پر ہی کی ہے۔گویا جس حد تک تبلیغ میں جنگ کے مواقع پیدا ہوئے ہیں وہ دشمن نے ہی بہم پہنچائے ہیں۔انبیاء نے خود پیدا نہیں کئے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسلام کی حکومت عرب پر قائم ہو گئی تھی اس لئے لوگوں نے مان لیا۔مگر سوال یہ ہے کہ یہ حکومت قائم ہونے کے سامان کس نے پیدا کئے۔پہلے آنحضرت صلی الله ولم نے تلوار اٹھائی یا کافروں نے اور جب اسلام کی حکومت قائم ہونے کے سامان خود کافروں نے مہیا کئے تو الزام آنحضرت صلی ای کمر پر کس طرح آسکتا ہے۔اگر کوئی شخص خود آکر کہے کہ مجھے کلمہ پڑھاؤ تو اسے کلمہ پڑھا دینا جبر نہیں کہلا سکتا اور اگر عرب پر اسلام کی حکومت قائم ہونا اعتراض کی بات ہے تو کسی کے کہنے پر اسے کلمہ پڑھانے کو بھی جبر ہی کہنا پڑے گا۔عرب پر اسلام کی حکومت قائم ہونے کا دروازہ خود کافروں نے کھولا اور جو دروازه دوسرا کھولے وہ جبر نہیں کہلا سکتا۔ہاں اگر انسان خود جا کر لالچ یا حرص دلا کر کسی کو منالے تو یہ مالی جبر کہلائے گا یا اگر تلوار دکھا کر منالے تو یہ تلوار کا جبر ہو گا۔لیکن عرب پر اسلام کی حکومت کا رستہ خود کافروں نے کھولا۔اس لئے یہ جبر نہیں۔جس طرح اگر کوئی خود آکر اطاعت قبول کرے تو یہ جبر نہیں کہلا سکتا۔ایک شخص اگر خود تحقیق کرے اور پھر تصدیق کر کے خواہش کرے کہ مجھے کلمہ پڑھاؤ تو کوئی علقمند اسے جبر نہیں کہہ سکتا۔پس جب لڑائی کا