خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 447 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 447

* 1942 447 خطبات محمود تیسرے درجہ میں ہوتے ہیں۔تو اس فخر کی وجہ سے وہ دوزخ کے چوتھے درجہ میں چلے جاتے ہیں۔ثواب اسی کو ملتا ہے جو اخلاص سے کام لیتا ہے جو سامانوں سے تہی دست ہونے کی وجہ سے کڑھتا اور اس غم کی وجہ سے پریشان رہتا ہے کہ میں فلاں نیکی سے محروم رہا۔ایسا شخص عملی رنگ میں نیکی میں حصہ نہ لینے کے باوجود خدا تعالیٰ کے نزدیک اسی ثواب کا مستحق سمجھا جاتا ہے جس ثواب کے مستحق دوسرے لوگ ہوتے ہیں کیونکہ اس کے دل کا غم عمل کے قائم مقام ہو جاتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ دنیا میں ایسے لوگ کتنے ہوتے ہیں جو اپنے دل کے غم کی وجہ سے خد اتعالیٰ کا قرب حاصل کر لیتے ہیں۔میرے نزدیک نماز پڑھ کر خدا تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔بہ نسبت ان لوگوں کے جن کی نماز جاتی رہی ہو اور انہوں نے نماز کے ضائع ہونے پر اس قدر غم کیا ہو کہ خدا نے یہ فیصلہ کر دیا ہو کہ انہیں بھی نماز پڑھنے والوں جیسا ثواب دے دیا جائے۔نماز کسی کی اسی حالت میں ضائع ہو سکتی ہے جب وہ بے ہوشی کی حالت میں ہو مگر بے ہوش ہونے والوں میں سے کتنے ہوتے ہیں جنہیں بعد میں نماز کے ضائع ہونے کا ایسا دکھ پہنچتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی حالت غم کی وجہ سے موت سے بدتر ہو گئی ہے۔یقیناً ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔پس میرے نزدیک نماز سے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں مگر نماز ضائع ہونے پر اپنے دل کے غم کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر لینے والے بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔اسی طرح روزوں سے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والے بہت زیادہ ہوتے ہیں مگر روزہ سے معذوری پر سچے غم کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والے بہت کم ہوتے ہیں حالانکہ کام انہیں تھوڑا کر نا پڑ تا ہے مگر چونکہ اس میں دل کے غم کا تعلق ہے اور یہ غم ہر شخص کے دل میں پیدا نہیں ہو سکتا اس لئے اپنے دل کے غم کی وجہ سے بہت کم لوگ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرتے ہیں اور دل کا غم ہمیشہ عشق سے پیدا ہوتا ہے۔جس شخص کے دل میں عشق نہ ہو وہ کبھی کسی نیکی کے ضائع ہونے پر اس قدر غم نہیں کر سکتا کہ اللہ تعالیٰ اس کے غم کو ہی نیکی کا قائم مقام بنادے۔قصہ مشہور ہے کہ ہارون الرشید کے پاس ایک دفعہ کوئی شخص آیا جس کا رنگ بہت زر د تھا۔بادشاہ نے اس سے پوچھا کہ تیر ارنگ اس قدر زر د کیوں ہے۔اس نے کہا بات یہ ہے کہ میرے پاس ایک دفعہ کچھ