خطبات محمود (جلد 23) — Page 446
* 1942 446 خطبات محمود نزدیک وہ ویسے ہی روزے دار ہوتا ہے جیسے وہ لوگ جنہوں نے روزے رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جب امر تسر میں لوگ پتھر برسا رہے تھے اس وجہ سے کہ آپ نے کیوں روزہ نہیں رکھا۔اس وقت خدا تعالیٰ کے فرشتے آپ پر پھول برسا رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اے احمد ! تیرا یہ بے روزہ ہونا ہمارے نزدیک اتنا بڑا روزہ ہے کہ دنیا کے سارے روزے اس کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتے کیونکہ یہ تیرا بے روز ہونا ہمارے حکم کے ماتحت ہے اور وہ لوگ جنہوں نے اس وقت روزے رکھے ہوئے تھے مگر ان کے دلوں میں اخلاص نہیں تھا، ایمان نہیں تھا، محبت نہیں تھی اور نہ روزہ کی شرائط کو انہوں نے پورا کیا تھا۔خدا تعالیٰ کے فرشتے ان کو مخاطب کر کے کہہ رہے تھے کہ اے بے روزو! تم اسی کو پتھر مار رہے ہو جو ایک ہی روزہ دار ہے مگر نادان دنیا ان باتوں کو نہیں سمجھتی۔وہ خد اتعالیٰ کے ان بار یک روحانی قوانین سے ناواقف ہوتی ہے جنہوں نے ہر طرف سے اللہ تعالیٰ کے پیاروں کے لئے فضل کا دروازہ کھولا ہوا ہے۔وہ سامانوں والا جس کے پاس ہر قسم کے سامان ہوتے ہیں اور ان سامانوں سے کام لے کر نیکیوں میں حصہ لیتا ہے۔روپے ہوں تو زکوۃ دے دیتا ہے، علم ہو تو دوسروں کو علم سیکھا دیتا ہے، طاقت ہو تو روزے رکھ لیتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ میرا کیا ہے۔میرے پاس کثرت سے سامان ہیں میں ان سے کام لے کر جب بھی چاہوں نیکی میں حصہ لے سکتا ہوں۔وہ اپنے دل میں غرور سے یہ سمجھتا ہے کہ شاید نیکی کی سب سے زیادہ مجھے ہی توفیق ملی ہے حالانکہ خدا تعالیٰ کے نزدیک اس شخص کے لئے بھی ثواب حاصل کرنے کا ویسا ہی موقع ہوتا ہے جس کے پاس کوئی سامان نہیں ہوتے۔جس کے پاس کوئی روپیہ نہیں ہو تا جس کے پاس کوئی طاقت نہیں ہوتی مگر اس کے لئے سب سے پہلی شرط ایمان ہے۔وہ لوگ جن کے دل ایمان سے خالی ہوں، جن کے دل اخلاص سے خالی ہوں، جن کے دل اللہ تعالیٰ کی محبت سے خالی ہوں، وہ اس گروہ میں شامل نہیں ہو سکتے۔دنیا میں بعض نادان جھوٹے دھو کے باز اور فریبی تصوف کے رنگ میں دوسروں سے کہا کرتے ہیں کہ اجی ہمارے روزہ نہ رکھنے کا تم کیا ذکر کرتے ہو۔ہمارے بے نماز ہونے سے تم کو کیا کام۔ہم تو اللہ تعالیٰ کی محبت میں ہر وقت مدہوش رہتے ہیں۔حالانکہ اگر وہ پہلے اپنی نماز ناگزاری اور بے روزہ داری کی وجہ سے دوزخ کے