خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 419

* 1942 419 خطبات محمود پاس گئے اور کہا کہ اس طرح رات بھر شور و شر کی وجہ سے عبادت میں خلل پڑتا ہے۔اگر عبات کرنا چاہیں تو شور کی وجہ سے نہیں کر سکتے اور اگر سونا چاہیں کہ تہجد کے وقت اٹھیں گے تو شور کی وجہ سے نیند نہیں آتی۔ان حالات میں ہم لوگ کیا کریں، کئی لوگ اس درباری کو سمجھاتے رہے۔وہ بزرگ بھی پیغام بھیجتے رہے مگر اس پر کوئی اثر نہ ہونا تھا اور نہ ہوا۔آخر جب لوگوں نے بار بار آکر ان سے کہا تو انہوں نے اس درباری سے کہا کہ اب سختی سے تمہارا مقابلہ کرنا پڑے گا۔اس نے جواب دیا کہ تم میرا کیا مقابلہ کر سکتے ہو تم جانتے نہیں میں بادشاہ کا درباری ہوں۔میں بادشاہ سے کہہ کر کل یہاں پولیس مقرر کرادوں گا پھر تم لوگوں کو اچھی طرح پتہ لگ جائے گا۔اس بزرگ نے کہا کہ تم پولیس مقرر کر ا لو گے تو ہم بھی مقابلہ کریں گے۔اس نے جواب دیا کہ بڑے آئے مقابلہ کرنے والے۔تمہارے پاس کیا رکھا ہے جس سے بادشاہ کی فوجوں کا مقابلہ کرو گے۔اس بزرگ نے کہا کہ ہم راتوں کے تیروں سے مقابلہ کریں گے۔اس بزرگ کو دعاؤں کی طاقت اور اپنی دعاؤں کی قبولیت کا جو یقین تھا اس کا یہ اثر ہوا کہ ان کے منہ سے یہ بات نکلنے کے ساتھ ہی اس درباری کی چیخیں نکل گئیں۔اس نے فوراً حکم دیا کہ سارنگیاں وغیرہ توڑ دی جائیں اور اس بزرگ سے کہا کہ راتوں کے تیروں کا مقابلہ ہم واقعی نہیں کر سکتے۔تو ذکر الہی کی طاقت سے بات میں بہت زیادہ اثر پیدا ہو جاتا ہے۔دیکھو! قرآن کریم وہی تھا مگر مسلمان اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے تھے۔اس لئے کہ ان کے دلوں میں حقیقی ایمان نہ تھا مگر وہی قرآن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ میں آکر کس طرح اسلام کے دشمنوں کو تہس نہس کر رہا ہے اور چاروں طرف مُردے ہی مُردے نظر آتے ہیں۔یہ اس لئے ہوا کہ حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ذکر الہی کی طاقت تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے وفات مسیح کے جو دلائل پیش فرمائے ہیں۔ان میں ہیں تھیں بلکہ اور سو کا اضافہ بھی بے شک کر لو۔لیکن اگر ذکر الہی نہیں تو ان تمام دلائل اور انہیں بیان کرنے والے مبلغوں کا کوئی اثر نہیں ہو سکتا۔اثر زبان نہیں بلکہ دل کا جذبہ کرتا ہے۔خالی زبانی باتوں سے کچھ نہیں بنتا۔اس میں شبہ نہیں کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے عقل دی ہے اور وہ معقول بات کو ہی قبول کرتا ہے لیکن صرف بات کا معقول ہونا ہی اثر نہیں کر سکتا۔