خطبات محمود (جلد 23) — Page 418
* 1942 418 خطبات محمود لگی تھی۔مبلغ جو تلوار استعمال کرتا ہے وہ کسی پر ائی فیکٹری میں بنی ہوئی ہے۔جسے دندانے اور نشان وغیرہ پڑ چکے ہیں اور جو پہلے استعمال ہو چکنے کی وجہ سے خراب ہو چکی ہے اور پرانی ہونے کی وجہ سے اس کے ہینڈل کو کیڑا لگا ہوا ہے۔یہ اسے مارتا ہے تو بجائے دوسرے کو نقصان پہنچانے کے خود ہی ٹوٹ کر گر جاتی ہے۔دوسرے پر اثر تبلیغ اور دلیل سے ہی نہیں پڑتا بلکہ اس کے پیچھے جو جذبہ ہوتا ہے اس کا اثر ہوتا ہے۔ایک بزرگ کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جہاں وہ رہتے تھے اسی محلہ میں ایک بہت فسادی اور شریر آدمی تھا۔جو ہر وقت عیاشی میں مصروف رہتا اور دین سے ہمیشہ مذاق کرتا تھا۔وہ اسے بہت سمجھاتے تھے مگر اس پر کوئی اثر نہ ہوتا تھا۔وہ بزرگ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں حج کے لئے گیا تو اسے دیکھا کہ نہایت عجز و انکسار کی حالت میں طواف کر رہا ہے۔جب فارغ ہوئے تو اس بزرگ نے اس سے دریافت کیا کہ یہ کیا بات ہے جو تم حج کے لئے آگئے۔تم تو دین سے مذاق کیا کرتے تھے اور کسی نصیحت کا تم پر اثر ہی نہ ہو تا تھا۔اس نے کہا کہ میری ہدایت کا واقعہ یہ ہے کہ ایک دفعہ میں بازار میں جارہا تھا عیاشی کے خیالات میں محو تھا اور عیش و طرب کے مرکز کی طرف ہی جارہا تھا کہ ایک مکان میں کوئی شخص قرآن شریف بلند آواز سے پڑھ رہا تھا کہ آیت اَلَم يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللهِ میرے کان میں پڑی یعنی کیا مومنوں کے لئے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ جب ان کے دل خدا تعالیٰ کے ذکر کے لئے نرم ہو جائیں اور وہ ذکر الہی شروع کر دیں۔اس آواز میں ایسا سوز و گداز اور ایسی محبت تھی کہ مجھے یوں معلوم ہوا کہ وہ دنیا میں سے کسی انسان کی آواز نہ تھی۔اس آواز کو سنتے ہی میں گویا اڑ کر کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔اسی وقت گھر آیا اور عیش و طرب کے سب سامان توڑ ڈالے اور حج کے لئے روانہ ہو گیا۔یہ قرآن کی وہی آیت ہے جو کئی لوگ پڑھتے اور سنتے ہیں مگر ان پر کوئی خاص اثر نہیں ہوتا لیکن یہی آیت جب ایک ایسے دل سے نکلی جو ذکر الہی سے سرسبز و شاداب تھا تو سننے والے پر ایسا اثر کیا کہ اس کی زندگی میں گویا ایک انقلاب پیدا کر دیا۔اسی طرح ایک اور بزرگ کا واقعہ ہے کہ کسی شہر میں بادشاہ کا کوئی درباری رہتا تھا جس کے ہاں شب و روز گانا بجانا ہو تا اور محلہ والے سخت تنگ آچکے تھے۔محلہ کے لوگ اس بزرگ کے