خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 40

$1942 40 خطبات محمود شرک کرتے ہیں، قبروں پر جا کر سجدے کرتے ہیں اور غیر اللہ سے مرادیں مانگتے ہیں بلکہ بعض واعظ تو بر ملا اپنے وعظوں میں کہہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے خلاف اگر کوئی بات ہو تو ہمیں اس کی پرواہ نہیں مگر ہم آنحضرت صلی یکم کے خلاف کوئی بات نہیں سن سکتے اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ذریعہ نجات کا ہے حالانکہ جو خدا تعالیٰ کو چھوڑتا اور آنحضرت صلی الم کے ساتھ نسبت قائم الله سة کرتا ہے۔آنحضرت صلی یہ کام تو قیامت کے روز اس کی شکل دیکھنا بھی پسند نہ کریں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کا ایک نظارہ اس سلسلہ میں ہمارے لئے سبق ہے۔آپ ایک دفعہ باہر تشریف لے گئے۔لاہور کا ریلوے سٹیشن تھا۔دوست آپ کے گرد حلقہ باندھ کر کھڑے تھے کہ اتنے میں پنڈت لیکھرام بھی وہاں آگئے اور جیسے آدمی بڑے آدمی کو سلام کرتا ہے پنڈت صاحب نے بھی آپ کو سلام کیا مگر آپ نے مُنہ دوسری طرف پھیر لیا۔پنڈت صاحب نے پھر سلام کیا مگر آپ نے پھر منہ پھیر لیا۔وہ آریہ سماج میں بہت شہرت رکھتے تھے اور یہ فرقہ پنجاب کے ہندوؤں میں بہت طاقت رکھتا ہے اور معزز ترین عہدے ان لوگوں کے ہاتھ میں ہیں۔جماعت کے بعض دوستوں نے خیال کیا کہ یہ بڑا آدمی ہے اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو جو سلام کیا ہے تو گویا ہماری بڑی عزت قائم ہوئی ہے اور آپ نے جو جواب نہیں دیا تو اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ آپ نے سنا نہیں۔شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بہت محبت رکھتے تھے۔گو بعد میں پیغامی ہو گئے تھے مگر وفات کے وقت آپ نے اس پر اظہار ندامت بھی کیا اور مجھے دعا کے لئے کہلا کے بھی بھیجا۔انہوں نے یہ سمجھ کر کہ آریوں کے لیڈر کا سلام کرنا بڑی عزت کی بات ہے عرض کیا کہ حضور نے شاید دیکھا نہیں، پنڈت لیکھرام صاحب سلام کہتے ہیں۔میں تو اس وقت بچہ تھا مگر دوسرے دوستوں کی روایت ہے کہ آپ یہ بات سن کر جوش میں آگئے اور فرمایا کہ یہ شخص میرے آقا کو تو گالیاں دیتا ہے اور مجھے سلام کہتا ہے۔جس طرح آنحضرت صلی ہی ہمارے آقا ہیں، اسی طرح ہمارا اور آنحضرت صلی للی کم کا آقا اللہ تعالیٰ ہے اور وہی اصل ہستی ہے۔انسان خواہ کتنا بڑا اہو خدا تعالیٰ کی برابری تو نہیں کر سکتا۔تو چاہئے تو یہ تھا کہ خدا تعالیٰ کے لئے مسلمانوں کے دلوں میں غیرت زیادہ ہوتی اور محمد رسول اللہ صلی ا یم