خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 39

* 1942 39 خطبات محمود الله سة میں نے کہا کہ جب آپ مذہب کے ہی قائل نہیں تو پھر حضرت عیسی کی عزت آپ کیوں کرتے ہیں۔مگر انہوں نے کہا کہ نہیں میں حضرت عیسی پر اعتراض برداشت نہیں کر سکتا۔تو مسلمانوں میں بھی ایک طبقہ ایسا ہے جو اس نسبت کو قائم نہیں رکھ رہا جو خدا تعالیٰ اور آنحضرت علی ایم کے مقام میں ہے اور اس وجہ سے وہ عقلی توازن بھی کھو بیٹھا ہے جو انسان بڑی چیز کو چھوٹی اور چھوٹی کو بڑی قرار دیتا ہے وہ اور بھی بیسیوں قسم کی غلطیاں کرتا ہے اور اپنے عقلی توازن کو قائم نہیں رکھ سکتا۔یہ فرق اس لئے ہے کہ مسلمانوں میں آنحضرت صلی للی نیم سے محبت کے جذبات بڑھانے کے لئے پورا زور لگایا گیا اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے جذبات پیدا کرنے کے لئے اتنا زور نہیں لگایا گیا اور اس لئے اللہ تعالیٰ سے محبت کا احساس قوم میں شدید نہیں ہوا۔کسی کے دل میں خدا تعالیٰ کے متعلق کوئی شبہ پیدا ہوا اور اس نے کسی مجلس میں سة اظہار کیا تو لوگوں نے وہ غیرت نہیں دکھائی جو آنحضرت صلی اللی علم کے متعلق دکھائی۔اس لئے قوم میں ایک جذبہ بڑھتا گیا اور دوسر ا کم ہوتا گیا۔یہی حال کھانے پینے کے بارہ میں ہے۔سور کے متعلق مسلمانوں میں شدید جذبہ ہے مگر شراب کے متعلق اتنا نہیں۔اگر کسی کو شراب پیتا دیکھ لیں تو اس سے اتنی نفرت نہیں کرتے لیکن سور کھانے والا مسلمانوں میں نہیں رہ سکتا۔اگر چہ بعض مغربی تہذیب کے اثر میں آکر کھا بھی لیتے ہیں مگر ایسے بہت کم ہیں۔سینکڑوں نوجوان یورپ میں جا کر حلال حرام کی تمیز چھوڑ دیتے ہیں مگر سور سے پھر بھی پر ہیز کرتے ہیں۔اگر چہ بعض ایسے بھی ہیں جو وہاں سور بھی کھا لیتے ہیں مگر یہاں آکر اس کا اظہار نہیں کرتے لیکن سینکڑوں ہیں جو وہاں جا کر شراب پیتے ہیں، ناچوں وغیرہ میں شامل ہوتے ہیں اور باقی سب باتیں کرتے ہیں مگر سور نہیں کھاتے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ مسلمانوں میں اس کے خلاف شدید جذبہ ہے۔تو جب قومی جذبات شدت اختیار کر لیں تو قوم کے افراد میں یہ احساس پیدا ہو جاتا ہے کہ یہ کام نہیں کرنا حالانکہ اس سے زیادہ برے کام بھی کر لیتے ہیں۔مسلمانوں میں کئی حرام خور ہیں، بد دیانت، چور، ڈاکے مارنے والے اور ظالم بھی ہیں مگر وہ سور نہیں کھاتے کیونکہ اس کے خلاف شدید جذبات پیدا کر دیئے گئے۔اسی طرح ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو رسول کریم صلی الی یوم کی محبت کا دعویٰ کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ سے کوئی محبت نہیں۔