خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 4

* 1942 4 خطبات محمود زندگی کو زندگی سمجھ لیتے ہیں وہ بھی ٹھو کر کھاتے ہیں۔اور جو آخرت کی زندگی کو ہی اصل زندگی سمجھ لیتے ہیں وہ بھی ٹھو کر کھاتے ہیں۔جو لوگ اس دنیا کو اصل زندگی سمجھ لیتے ہیں وہ اس دنیا کی مشکلات اور ابتلاؤں کو دیکھ کر خیال کر لیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا معاملہ ان کے ساتھ اچھا نہیں۔اور جو لوگ اگلی زندگی کو ہی زندگی سمجھتے ہیں وہ اس دنیا میں سچائی کو معلوم کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔وہ اس زندگی پر انگلی دنیا کو قیاس نہیں کرتے بلکہ دونوں کو الگ الگ سمجھتے ہیں۔چاہئے یہ کہ اس زندگی پر اگلی زندگی کا قیاس کیا جائے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کا ہے کہ مَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلى 2 یعنی جو اس زندگی میں اندھا ہو گا وہ اگلی زندگی میں بھی اندھا ہو گا۔اور اگر اس زندگی میں بینائی حاصل ہو گی تو انگلی میں بھی ہو گی۔جو لوگ اس زندگی کو لغو اور کھیل سمجھتے ہیں اور اگلی زندگی کو ہی صرف زندگی سمجھتے ہیں وہ بھی محروم رہ جاتے ہیں کیونکہ وہ اس دنیا میں خدا تعالیٰ کے نشانات کو تلاش نہیں کرتے۔اور ان کا ایمان پختہ نہیں ہوتا۔پس جب بھی کوئی ٹھو کر انہیں لگتی ہے وہ اس کی برداشت نہیں کر سکتے اور ارتداد اختیار کرلیتے ہیں۔دراصل یہ دونوں زندگیاں ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں۔یہ جہان اگلے جہان کی تصویر ہے۔ایک شخص کی اگر پہلے سال کی تصویر دیکھیں کہ وہ بالکل ٹھیک ہو لیکن اگلے سال کی تصویر دیکھیں تو ناک کٹی ہوئی ہو۔تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ جس شخص کی یہ تصویر ہے اس کی ناک کٹ چکی ہے۔اسی طرح ہر اگلے سال کی تصویر کا حال ہے۔اگر ان میں کوئی خرابی دیکھیں تو سمجھنا چاہئے کہ اگلے جہان میں بھی حقیقی خرابی پیدا ہو گئی ہے لیکن اگر خرابی صرف تصویری ہو۔یعنے صرف اس دنیا کی زندگی میں تو وہ یقیناً عارضی روک ہو گی۔جیسے اگر ناک تو انسان کی درست ہو مگر تصویر کے اندر ناک میں کوئی نقص پیدا ہو جائے۔تو اس سے صاحب تصویر کو کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔بلکہ فوٹوگرافر معذرت کرے گا اور اس کا بدلہ اگر ممکن ہو تو دوسری طرح دے گا۔اسی طرح اگر کسی صحیح تصویر کو یہاں فرشتے کسی مصلحت کے ماتحت غلط طور پر پیش کریں تو اگلے جہان میں اس کے بدلہ میں وہ زیادہ نعمتیں جمع کرتے ہیں تا کہ اس غلط تصویر کا ازالہ ہو جائے۔پس میں اس نئے سال کے آغاز پر احمدی احباب کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس سال میں