خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 396

* 1942 396 خطبات محمود تو کل کرتا ہے وہ کنگال نہیں ہوتا۔یہ اپنی بے ایمانی ہوتی ہے جو انسان کو کنگال بناتی ہے۔جو شخص اللہ تعالیٰ پر یقین اور توکل رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے غیب سے سامان مہیا کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والا انسان دنیا میں ذلیل کبھی نہیں ہو تا۔فاقے اسے بے شک آئیں مگر وہ ذلیل نہیں ہو سکتا۔یاد رکھنا چاہئے کہ فاقہ موجب ذلت نہیں بلکہ ذلت ذلت والی روٹی کھانے میں ہے۔آنحضرت صلی للی نام کو بھی فاقے آتے تھے مگر آپ کے مقابلہ میں ان لوگوں کی کیا عزت ہے جن کے دستر خوانوں پر چالیس چالیس کھانے ہوتے ہیں۔آپ کے سامنے رکھی ہوئی کھجوریں کہیں زیادہ قیمتی ہیں یہ نسبت ان بھنے ہوئے دنبوں کے جو دوسروں کے دستر خوان پر ہوتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ مومن کے لئے غیب سے سامان کرتا ہے اور ایسے سامان کرتا ہے کہ کسی کے وہم میں بھی نہیں آسکتے۔دشمن بسا اوقات حیران رہ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ خبر نہیں اسے کہیں سے خزانہ مل گیا یا اس نے کہیں چوری کی ہے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے غیب سے دیتا ہے اور اس طرح دیتا ہے کہ اس کے اپنے وہم میں بھی نہیں ہوتا۔خود میری اپنی زندگی میں پانچ سات مواقع ایسے آچکے ہیں کہ جب مجھ پر اتنا قرض ہو گیا کہ میں نے سمجھا اب تو میں اپنی زندگی میں اسے نہ اتار سکوں گا مگر جس وقت یہ خیال کیا اللہ تعالیٰ نے سامان پیدا کر دیئے کہ وہ اتر گیا۔کچھ مدت بعد پھر قرض ہو گیا اور میں نے اپنے نفس سے کہا کہ پہلے تو قرضہ اتر گیا تھا مگر اب ایسے پھنسے ہو کہ اب نہ اتار سکو گے۔لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان کر دیئے کہ وہ اتر گیا۔تو اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کر دیتا ہے کہ بسا اوقات اس میں انسان کی عقل و سمجھ کا کوئی دخل نہیں ہو تا بلکہ بعض اوقات تو ایسا ہوتا ہے کہ انسان ایک غلطی کرتا ہے اس سے کوئی بے وقوفی سر زد ہو جاتی ہے مگر اس کا نتیجہ اعلیٰ درجہ کا پیدا ہو جاتا ہے۔پس یہ خیال مت کرو کہ اگر کسی کو روزہ رکھنے کی نصیحت کرو گے تو گاہک ہاتھ سے جاتا رہے گا۔اگر دس ہیں یا پچاس روپیہ کا گاہک ہاتھ سے جاتا رہے گا تو غیر محدود خزانوں والا خدا تمہارا گاہک بن جائے گا۔یہ صرف ایمان کی بات ہے۔ایک بزرگ کے متعلق آتا ہے کہ وہ کسی کے مقروض تھے۔قرض خواہ تقاضا کرنے آیا اور کہا کہ آپ نے مجھ سے فلاں رقم قرض لی ہوئی ہے وہ اب ادا کر دو۔اس نے مطالبہ میں سختی کی اور گالی گلوچ پر اتر آیا۔وہ خاموش بیٹھے رہے اور کہتے رہے