خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 280

* 1942 280 خطبات محمود گیا ہے۔مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ بعض جگہ جب ہماری جماعت میں سے نوجوانوں کو بھرتی کرنے کے لئے افسر پہنچے تو بعض نوجوان تو تیار ہو گئے مگر ان کی مائیں روتی ہوئی آگئیں کہ ہائے ہائے میرا بچہ مارا جائے گا اور ظاہر ہے کہ ایسے بزدل کیا قربانی کر سکتے ہیں۔قربانی کے لئے تیاریاں ضروری ہوتی ہیں۔دیکھو خدا تعالیٰ کے لئے فاقہ کرنے کا موقع تو شاید ہی کسی آدمی کو کبھی ملتا ہو مگر اللہ تعالیٰ ہر سال ایک ماہ بھوکا رہنے کی مشق کراتا ہے۔اصل دن تو شاید کبھی آتا ہی نہیں مگر مشق ہر سال میں ایک ماہ کرائی جاتی ہے اس لئے کہ کوئی کام بغیر مشق کے نہیں ہو سکتا۔خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنا مال لٹا دینے کا موقع تو شاذ ہی کسی کو ملتا ہے مگر ز کوۃ ہمیشہ کے لئے مقرر کر دی گئی ہے۔پس قربانی کے لئے مشق بہت ضروری چیز ہے۔جو شخص سمجھتا ہے کہ مجھے تیاری کی کوئی ضرورت نہیں جب وقت آئے گا میں قربانی کر لوں گا وہ نادان ہے۔اور میں اس کی آنکھیں کھول دینا چاہتا ہوں کہ وہ وقت آنے پر ضرور ٹھو کر کھائے گا۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں ہماری جماعت کو چاہئے تھا کہ اس جنگ کو خدا تعالیٰ کی تقدیر کا ایک مظاہرہ سمجھتے ہوئے اسے نعمت غیر مترقبہ سمجھتی کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جاری کر کے ہمارے لئے یہ موقع پیدا کر دیا کہ اگر چاہیں تو فنون جنگ سیکھ سکتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے یہ ایک ایسا موقع بہم پہنچایا تھا کہ جماعت کے دوستوں کو اس پر خوشی سے اچھلنا چاہئے تھا مگر بجائے اس کے کہ خوش ہوتے اور نعمت سمجھ کر اس سے فائدہ اٹھاتے وہ فوج میں داخل ہونے سے ڈرتے ہیں۔جنگ کو بحیثیت ایک بلا کے تو براہی سمجھنا چاہئے اور فوج میں داخل ہونے کے معنے یہی ہیں کہ اسے بلا سمجھتے ہیں اور دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر فنون جنگ سیکھنے کے لحاظ سے اس موقع کو غنیمت سمجھنا چاہئے تھا کہ جرات اور بہادری پیدا کرنے کا سامان میسر آگیا۔میں ان عورتوں پر جنہوں نے یہ بُرا نمونہ دکھایا اظہار افسوس کرتا ہوں اور ان سے پوچھتا ہوں کہ کیا ان میں سے کوئی ہے جو اپنے بچوں کے لئے ایک سال کی عمر کی بھی ضمانت دے سکے اور کیا جب جنگ ختم ہو جائے گی تو انہیں شرم نہ آئے گی کہ ان کی عزت کی حفاظت کے لئے ہندو، سکھ ، غیر احمدی اور بعض احمدی تو میدان جنگ میں گئے مگر ان کے بچوں میں سے کوئی نہ گیا۔اگر خدا تعالیٰ نے ہمارے ملک کو خطرہ سے بچالیا تو کیا ان کو غیرت نہ آئے گی