خطبات محمود (جلد 23) — Page 276
خطبات محمود 276 * 1942 انہوں نے عرض کیا صاحب خانہ مسلمان اور احمدی ہے۔حلال کھانا پکا یا گیا ہے۔سور کا کیا مطلب ہے۔مگر آپ نے کہا کہ مجھے یہی الہام ہوا ہے اور میں یہ کھانا نہیں کھا سکتا۔آخر تحقیقات کی گئی تو معلوم ہوا کہ در حقیقت ولیمہ کا سوال ہی پیدا نہ ہوا تھا۔ہماری شریعت کا حکم یہ ہے کہ جب میاں بیوی آپس میں ملیں اور حقیقی صورت میں میاں بیوی کے تعلقات قائم ہو جائیں تو ولیمہ ہو تا معلوم ہو جائے کہ بیوی پورے مہر کی حقدار ہو گئی ہے۔چونکہ ایسی بات کا اعلان اور الفاظ میں نہیں کیا جا سکتا اس لئے شریعت نے اس کے لئے ولیمہ کا طریق مقرر کر دیا ہے تا آئندہ جھگڑا وغیرہ اگر کوئی پیدا ہو تو فیصلہ میں آسانی رہے۔غرض اس وقت تحقیقات سے معلوم ہوا کہ گو ولیمہ کی دعوت کی گئی مگر در حقیقت ایسا فعل ہوا ہی نہ تھا اور لڑکے والوں نے شرم کے مارے ولیمہ کر دیا اور چونکہ ایسی دعوت ولیمہ شریعت کے منشاء کے خلاف تھی اللہ تعالیٰ نے الہا ما آپ کو اس سے روک دیا کیونکہ ایک اعلیٰ درجہ کے متقی انسان کے لئے تھوڑی سی بُری بات بھی بڑی ہوتی ہے اس لئے الہام میں آپ کے لئے اس کھانے کو سور کہا گیا۔تو اللہ تعالیٰ نے جہاں دخل دینا ہوتا ہے وہاں دے دیتا ہے۔اسی لئے قرآن کریم نے بتایا ہے کہ دونوں طرح اللہ تعالیٰ کی حکومت چلتی ہے اس نے انسان کو مختار بھی بنایا ہے۔ہر انسان کھانا کھاتا ہے تو اس کا پیٹ بھرتا ہے ، پانی پیتا ہے تو پیاس سے سیری ہوتی ہے، سونے سے طبیعت کو آرام ملتا ہے، آگ جلتی ہے تو گرمی محسوس ہوتی ہے، گرم کپڑے پہننے سے بدن گرم ہوتا ہے، سرد کپڑے پہنے سے گرمی نہیں لگتی۔انسان شلغم کھاتا ہے تو اس کی تاثیر ظاہر ہوتی ہے، مولی کھاتا ہے تو اس کی تاثیر ، کھاتا تو انسان اپنی مرضی سے ہے مگر تاثیر وہی ظاہر ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ نے اس چیز میں پیدا کی ہے۔انسان اگر چہ مختار ہے مگر تاثیر کو وہ نہیں بدل سکتا۔اگر وہ چاہے کہ آگ اس کی پیاس بجھا دے تو یہ نہیں ہو سکتا۔یا وہ چاہے کہ پانی کھانا پکا دے تو یہ ممکن نہیں۔وہ آزاد تو ہے مگر اسی حد تک جس حد تک کہ مختلف چیزوں میں اللہ تعالیٰ نے مختلف تاثیریں رکھی ہیں۔ہر چیز میں اللہ تعالیٰ نے جو خواص رکھے ہیں اسی حد تک وہ ان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔جہاں خدا تعالیٰ کی حد بندی ختم ہو جاتی ہے وہاں انسان خواہ کتنا زور لگائے کچھ نہیں کر سکتا۔حضرت خلیفہ اول اس کی ایک لطیف مثال بیان کیا کرتے تھے۔آپ فرماتے کہ اگر