خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 260

* 1942 260 خطبات محمود سے بھی حملہ کر رہا ہو ، جنوب سے بھی حملہ کر رہا ہو ، مشرق سے بھی حملہ کر رہا ہو اور مغرب سے بھی حملہ کر رہا ہو۔ایسی حالت میں افسر سمجھتا ہے کہ اگر جنوب کے حملے کو روک دیا جائے تو سب حملے رک جائیں گے مگر ایک ماتحت یہ کہتا ہے کہ اگر شمال کے حملے کو روکا جائے تب فائدہ ہو گا اور ایک سپاہی بولتا ہے اور کہتا ہے پہلے مشرق کے حملے کا دفاع کرنا چاہئے اور کچھ کہہ اٹھتے ہیں کہ مغرب کی طرف پہلے بڑھنا چاہئے۔اب اگر یہی قانون ہو کہ جو بات کسی کے ذہن میں آئے اس پر عمل کرلے تو کچھ سپاہی مشرق کو چلے جائیں گے ، کچھ مغرب کو ، کچھ شمال کو اور کچھ جنوب کو اور سب کو دشمن ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔پس وہاں یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ زید یا بکر کی عقل میں کیا آتا ہے بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ جو افسر کہتا ہے اس پر عمل کیا جائے۔پھر اس بات کی کون ذمہ داری لے سکتا ہے کہ جو بات وہ کہتا ہے وہ تو درست ہے مگر جو رائے اس کے افسر کی ہے وہ غلط ہے۔تو نظام لوگوں سے خیالات کی قربانی کا سب سے زیادہ مطالبہ کیا کرتا ہے۔پیغامی اس کا نام پیر پرستی رکھتے ہیں حالانکہ یہ پیر پرستی نہیں۔ہم تو کہتے ہیں جن باتوں کے کرنے کا تمہیں خدا نے حکم دیا ہے ان پر عمل کرو۔پھر ہم کہتے ہیں جن باتوں کے کرنے کا تمہیں رسول کریم صلی اللہ کریم نے حکم دیا ہے ان پر عمل کرو۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تمہیں جو احکام دئے ہیں ان کو مانو اور پھر جو باتیں رہ جائیں ان میں خلیفہ اور جماعت کے دوسرے افسروں کی اطاعت کرو۔پس یہ پیر پرستی کیسے ہو گئی۔پیر پرستی تو تب ہوتی جب ہم کہتے کہ تم خدا کی نہ مانو ، رسول کی نہ مانو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نہ مانو، صرف ہماری مانو۔اگر ایسی بات ہوتی تو بے شک یہ پیر پرستی ہوتی۔مگر ہم تو کہتے ہیں تم خدا کی مانو ، خدا کے رسول کی مانو، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مانو اور پھر جو باتیں رہ جائیں۔ان میں ہمارے احکام مانو اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس کے بغیر دنیا میں کبھی کوئی نظام چل ہی نہیں سکتا۔گھر میں میاں بیوی میں بھی بعض دفعہ اختلاف ہو جاتا ہے اور میاں کی کچھ مرضی ہوتی ہے اور بیوی کی کچھ۔مگر پھر بھی ایک اصول کے ماتحت ان تمام اختلافات کو طے کیا جاتا ہے یعنی گھر کے اندرونی معاملات میں ماں کی بات مانی جاتی ہے اور بیرونی معاملات میں باپ کی بات مانی جاتی ہے۔اگر یہ نہ ہو تو ہر گھر میں روزانہ سر پھول ہوتی رہے۔باپ کہے کدو پکانا ہے،