خطبات محمود (جلد 23) — Page 196
* 1942 196 خطبات محمود لیں۔چنانچہ اس نے پھر خانہ کعبہ میں جا کر اعلان کر دیا۔میں نے ابو بکر کو جو ضمانت دی تھی اسے واپس لیتا ہوں۔1 تو اس وقت مکہ میں یہ رسمی قانون تھا حالانکہ وہاں کوئی بادشاہ نہ تھا اور کوئی حکومت نہ تھی، کوئی تعزیرات نہ تھیں اور کوئی ہدایت نامہ نہ تھا، پھر بھی کچھ رواج تھے جن کے ماتحت کام کئے جاتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ جب اہل مکہ نے رسول کریم صلی اللہ ہم کو قتل کر دینے کا ارادہ کیا تو اس وقت ان کے ذہنوں میں یہ بات آئی کہ مکہ کے رسمی قانون کے ماتحت آپ کے رشتہ داروں کو حق ہو گا کہ خون کے انتقام کا مطالبہ کریں۔یہ کوئی حکومت کا قانون نہ تھا مگر رسمی قانون تھا جس کے مطابق وہ جانتے تھے کہ انہیں قاتل کی جان دینی پڑے گی اور آخر غور کر کے انہوں نے یہ تجویز کی کہ سب قبائل کے نمائندے اس کام میں شامل ہوں تا جب آپ کے رشتہ دار خون کا انتقام لینے کا مطالبہ کریں تو ان کی تائید میں آواز اٹھانے والا کوئی نہ ہو اور اگر آپ کے رشتہ دار انتقام لینے پر مصر ہوں تو ان کو سب قبائل سے لڑنا پڑے۔گو اللہ تعالیٰ نے ان کی اس تجویز کو بھی ناکام کر دیا اور اپنے فضل سے اپنے رسول کی جان کو بچایا مگر ان کی اس تجویز سے ظاہر ہے کہ وہ اس قانون کی قیمت کو سمجھتے تھے۔ان کے علاوہ منظم حکومتیں ہوتی ہیں جن کے باقاعدہ قوانین ہوتے ہیں۔بعض قوموں میں مذہبی قوانین ہیں۔ہندوؤں میں منو کا دھرم شاستر ہے اور یہی قانون سمجھا جاتا تھا اور اپنے زمانہ میں ہندو اس کی پابندی ضروری سمجھتے تھے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو اپنے آپ سے باہر سمجھتے تھے۔پھر رومیوں کا اپنا قانون تھا، بابلیوں کے جو پرانے کتبے ملتے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بھی قوانین تھے۔غرض منظم حکومتوں میں زیادہ تفصیلی قوانین ہوتے ہیں اور جہاں طوائف الملو کی ہو وہاں رسمی طور پر بعض قواعد ہوتے ہیں جن کی پابندی اور احترام تمام افراد کا فرض سمجھا جاتا ہے۔اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے اسلام بھیجا جس نے ہر معاملہ کے متعلق قوانین مقرر کئے۔ایسے تفصیلی قوانین اسلام میں موجود ہیں کہ اور کسی مذہب میں اس کی مثال نہیں مل سکتی۔جب ہم کھانا کھانے لگتے ہیں تو اسلامی قانون پاس آکر کھڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے پہلے ہاتھ دھولو۔پھر جب کھانا شروع کرنے لگتے ہیں تو وہ سامنے آ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ توجہ سے بیٹھو، استغناء اور بے پروائی سے کھانا نہ کھاؤ، دایاں ہاتھ آگے