خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 180

* 1942 180 خطبات محمود قریباً ساری ہی ایسی ہیں جنہوں نے ابھی اس میں حصہ نہیں لیا۔باہر کی جماعتوں میں سے سب سے بڑھ کر حصہ لینے والی اور اول نمبر حاصل کرنے والی لائل پور کی جماعت ہے۔اس جماعت نے سب سے پہلے اور فوری طور پر اور جماعتی رنگ میں اپنا وعدہ بھجوایا۔اس کے سوا باہر کی کوئی ایسی جماعت نہیں جس نے اس وقت تک جماعتی طور پر حصہ لیا ہو۔گو یہ جماعت چھوٹی ہے اور اس لحاظ سے اس نے حصہ بھی تھوڑا ہی لیا ہے مگر سب سے پہلے حصہ لیا ہے اور خطبہ شائع ہونے سے بھی پہلے لیا ہے اور اجتماعی رنگ میں لیا ہے اور اس وجہ سے وہ بیرونی جماعتوں میں سے اول نمبر لے گئی ہے۔سوائے ان جماعتوں کے جن تک ابھی یہ اطلاع نہیں پہنچی اور نہ پہنچ سکتی تھی۔ان میں سے بعض کو تو اب اطلاع ملی ہو گی مثلاً کلکته ، بمبئی، حیدر آباد و سکندر آباد وغیرہ کی جماعتیں ہیں۔ان کو جب خبر پہنچے تو اگر وہ جلدی کریں تو ممکن ہے اول نمبر میں شامل ہو جائیں۔پس میں پھر ایک دفعہ بیرونی جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس تحریک میں حصہ لیں اور صدقہ کی نیت نہ رکھیں اور اس طرح نیکی کے اس خانہ کو پر کریں جس میں اب تک بہت کم عمل درج ہیں۔اس کے بعد ایک اور بات ہے جس کے متعلق میں کچھ کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ میں دوستوں کو ہمیشہ دعاؤں کے متعلق کہتا رہتا ہوں اور خود بھی دعائیں کرتا ہوں۔اس وقت حالات ایسے خراب ہو چکے ہیں کہ ملک کے امن میں بہت خلل پڑنے کا ڈر ہے۔ایک طرف تو بیرونی حکومتیں اور طاقتیں کوشش کر رہی ہیں کہ ہندوستان پر قبضہ کر لیں اور دوسری طرف بد قسمتی سے ہندوستان کی مختلف قوموں میں اختلاف بڑھ رہے ہیں۔ہر قوم منصوبے کر رہی ہے کہ موقع ملے تو میں دوسری قوموں کے اموال اور جائدادوں پر قبضہ کر لوں اور ان کی جانوں کو ضائع کروں حالانکہ یہ کتنی خراب بات ہے جو صرف اخلاق کی کمی سے پیدا ہوتی ہے۔دوسرے ملکوں میں اگر مصیبت آئے تو لوگ ایک دوسرے کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور مدد کریں گے مگر ہمارے ملک میں یہ حالت ہے کہ ہر شخص اپنے گاؤں میں بیٹھا خوش ہو رہا ہوتا ہے کہ موقع ملے تو لوٹ مار کریں گے۔ایک طرف ہندوستان کے لئے آزادی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف شیطان کی غلامی سے آزادی حاصل کرنے کی طرف