خطبات محمود (جلد 23) — Page 179
* 1942 179 خطبات محمود اپنے پیدا کرنے والے کی عبادت کریں۔اس کی یہ غرض نہیں ہوتی کہ ہمارا فلاں پیارا اچھا ہو جائے، قرض اتر جائے، مقدمہ میں کامیابی ہو جائے یا عزت پر جو حرف آنے والا ہے، اس کا ازالہ ہو جاۓ۔تو صدقہ کی کئی اقسام ہیں اور لوگ عام طور پر قرآنی صدقہ کی بہت سی قسموں سے غافل ہوتے ہیں۔پس اس تحریک سے میرا ایک مطلب تو یہ ہے کہ عربی زبان میں صدقہ کا جو مفہوم ہے وہ بھی پورا کرنے کا دوستوں کو موقع مل جائے اور یہ مفہوم نہیں کہ رڈ بلا کے لئے خرچ کیا جائے بلکہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے خرچ کیا جائے۔پس میرا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جن دوستوں کو پہلے ایسا خرچ کرنے کا موقع نہیں ملا انہیں اس کا موقع مل جائے اور نیکی کا یہ خانہ خالی نہ رہے۔دوسری غرض میری یہ ہے کہ ہماری جماعت میں یہاں بھی اور باہر بھی بعض سادات قابل امداد ہیں اور سادات کو معروف صدقہ دینا منع ہے۔پس اگر یہ انہی معنوں میں صدقہ کی نیت سے دیا جائے جو ہمارے ملک میں اس کا مفہوم ہے تو اس سے ہم سادات کی مدد نہیں کر سکتے۔ہاں ہدیہ اور تحفہ سے ان کی مدد بھی کر سکتے ہیں۔تحفہ انسان ماں، باپ، بھائی، بہن، بیوی، بچوں، دوستوں، رشتہ داروں غرضیکہ سب کو دے سکتا ہے۔پس میری یہ دو اغراض ہیں جن کی وجہ سے میں نے کہا ہے کہ جو دوست میری اس تحریک میں حصہ لیں وہ صدقہ کی نیت نہ کریں جس طرح کہ وہ اپنے بھائیوں، بہنوں، بیوی بچوں یا ماں باپ کو تحفہ دیتے ہیں تا جیسا کہ میں نے بتایا ہے ایک طرف تو ان کی نیکی کا یہ خانہ خالی نہ رہے یا جن کا پہلے ہی خانہ نہیں ان میں زیادتی ہو سکے اور دوسرے یہ کہ اس تحریک سے وہ لوگ بھی فائدہ اٹھا سکیں جو صدقہ کی صورت میں نہیں اٹھا سکتے۔اس سلسلہ میں دوسری بات جو میں کہنی چاہتا ہوں، یہ ہے کہ گو اس وقت تک کافی وعدے آچکے ہیں، باوجودیکہ اس تحریک پر ابھی تھوڑا وقت گزرا ہے اور میر اخطبہ آج ہی شائع ہوا ہے اس وقت تک غلہ اور نقد کے جو وعدے آئے ہیں وہ غلہ کی صورت میں سوا دو سو من کے قریب کے ہیں اور گو ابھی تک مکمل فہرست تو میرے سامنے نہیں آئی مگر میں سمجھتا ہوں ابھی قادیان کے بھی بہت سے دوست ہیں جنہوں نے اس میں حصہ نہیں لیا اور باہر کی جماعتیں تو