خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 169

* 1942 169 خطبات محمود اقرار کیا ہے کہ اس کے افسروں نے عقل اور تدبیر سے کام نہیں لیا بلکہ ہتک آمیز طریق اختیار کیا جس پر اس نے اظہارِ افسوس کرتے ہوئے ان افسروں کے خلاف ایکشن لیا ہے جو اس فعل کے مر تکب ہوئے تھے۔اس لئے جیسا کہ میں نے بتایا ہے میں اس معاملہ کو موجودہ جنگ کے حالات کے پیش نظر ختم کرتے ہوئے دوستوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میرا پہلا اعلان جس میں میں نے انفرادی طور پر جماعت کے احباب کو قربانیوں کے لئے تیار رہنے کے لئے کہا تھا اب ختم ہو گیا ہے۔اب اس کے لئے کسی تیاری یا بلاوے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔(2) اس کے بعد ایک اور امر ہے جس کی طرف میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ میں نے گزشتہ خطبات میں جماعت کے دوستوں سے کہا تھا کہ اس سال انہیں غلہ جمع کرنے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ ابھی قحط کے آثار پائے جاتے ہیں اور جنگ کے خطرات بھی بڑھتے جاتے ہیں۔ہم نے صدر انجمن احمد یہ کے کارکنوں کے متعلق ایسا انتظام کر دیا ہے کہ کٹوتی کی رقموں کا ایک حصہ انہیں واپس کر دیا جائے اور جن کی کٹوتی کی کوئی رقم نہیں مثلاً وہ بعد میں ملازم ہوئے ہیں انہیں قرض دے دیا جائے اور وہ قرض دس مہینے کے اندر اندر واپس لے لیا جائے لیکن انجمن کے کارکنوں اور تاجروں کے علاوہ ایک اور طبقہ بھی ایسا ہے جسے غلہ کی ضرورت ہے۔تاجر تو قحط کے آثار کے ساتھ ہی اپنی اشیاء کی قیمتیں بڑھا دیتے ہیں۔آٹھ آنے کی چیز ہو تو دس آنے کی کر دیتے ہیں۔دس آنے کی چیز ہو تو بارہ آنے کی کر دیتے ہیں۔اس وجہ سے تاجروں کو ان دنوں میں کوئی نقصان نہیں ہو سکتا بلکہ بعض تاجران ان دنوں میں پہلے سے بہت زیادہ نفع کما لیتے ہیں۔پھر جو لوگ گور نمنٹ کے ملازم ہیں اور انہوں نے بیوی بچوں کو قادیان بھیجا ہوا ہے۔وہ اپنی بیوی بچوں کو ہر مہینے خود خرچ بھیج دیتے ہیں اور ان کا گزارہ ہوتارہتا ہے۔مگر ان کے علاوہ ایک غرباء کا طبقہ ہے جسے کسی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔وہ انجمن کے ملازم نہیں کہ انہیں انجمن سے روپیہ مل جائے، وہ تاجر نہیں کہ دکانداری سے نفع کمائیں، ان کے کوئی رشتہ دار باہر ملازم نہیں کہ ان کی طرف سے انہیں ماہوار روپے آتے رہیں۔اگر خدانخواستہ قحط پڑے تو ایسے لوگوں کو اپنے لئے روزانہ روٹی مہیا