خطبات محمود (جلد 23) — Page 168
* 1942 168 خطبات محمود مجلس کے ہیں تو میں مان سکتا ہوں کہ اس واقعہ میں گورنمنٹ کا ہاتھ نہیں تھا لیکن دوسرے بعض حکام اور سی۔آئی۔ڈی کے بعض افسروں کا اس میں ہاتھ ضرور تھا انہوں نے ناجائز طور پر ہمارے مبلغوں سے معلومات حاصل کرنا چاہیں تاکہ گورنمنٹ کو بتا کر وہ خود عزت حاصل کر لیں جیسا کہ صوفی عبد القدیر صاحب کے واقعہ سے ظاہر ہے مگر جب وہ عزت انہیں حاصل نہ ہوئی تو انہوں نے ایک گزشتہ واقعہ جو ہو چکا تھا اسے نئے سرے سے ایسی شکل دے دی کہ دنیا یہ سمجھے کہ یہ کوئی نیا واقعہ ہوا ہے۔جب یہاں ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس آئے تو میں نے ان کے سامنے ایسے واقعات رکھے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ یہ ڈیڑھ سال کا ایک پر انا واقعہ ہے اور میں نے ان سے پوچھا کہ یہ ڈیڑھ سال کا واقعہ نئی صورت کس طرح اختیار کر گیا۔اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک عجیب اتفاق ہے مگر دنیا میں عجیب اتفاقات ہو ہی جایا کرتے ہیں۔پھر میں نے دوسری مثال دی۔کہنے لگے یہ بھی عجیب اتفاق ہے۔میں نے کہا یہ سارے عجوبے یہاں کس طرح اکٹھے ہو گئے اور ان پر انے واقعات نے نئی صورت کس طرح اختیار کرلی۔غرض ہمارے پاس اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ در حقیقت اس واقعہ میں بعض بالا افسروں کا ہاتھ تھا لیکن جو فعل ہو اوہ مقامی آدمیوں سے ہوا۔گویا وہی لفظ جو اس چٹھی میں استعمال کیا گیا ہے یعنی آن فارچون ” وہ اس واقعہ پر پوری طرح منطبق ہوتا ہے کہ بد قسمتی سے بعض اور لوگ مارے گئے حالانکہ اصل مجرم اور تھے۔میں اس وقت ساری باتیں اپنے خطبہ میں بیان نہیں کر سکتا اور بعض باتیں تو ایسی ہیں جن کا بیان کرنا مناسب بھی نہیں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے پاس ایسے یقینی ثبوت ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض بالا افسر اس کارروائی میں شامل تھے۔میں یہ ماننے کے لئے تیار ہوں کہ قانوناً جس شکل کو گورنمنٹ کہتے ہیں وہ اس واقعہ کی ذمہ دار نہ تھی مگر بعض اور بھی بالا افسر ایسے ہوتے ہیں جو گورنمنٹ کے قائمقام سمجھے جاتے ہیں اور جب ان کی رائے کسی کے خلاف ہوتی ہے تو ماتحت افسر اسے خود بخود نقصان پہنچانا شروع کر دیتے ہیں۔پس بے شک اصطلاحی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گورنمنٹ کا ہاتھ اس واقعہ میں نہیں تھا مگر حقیقی طور پر گورنمنٹ کے بعض افسروں کا اس میں ہاتھ تھا۔بہر حال چونکہ گورنمنٹ نے قطع نظر اس سے کہ اس واقعہ کا تعلق امام جماعت احمدیہ سے تھا یا نہیں کھلے طور پر