خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 163

خطبات محمود 163 * 1942 ہماری ہوئی ہے اور نہ انبیاء اور ان کی جماعتوں کی ہو سکتی ہے۔حضرت مسیح کو اگر لوگوں نے نہ صلیب پر چڑھا دیا تو اس سے ان کی کیا بہتک ہو گئی۔اسی طرح ان کی جماعت کو اگر تکلیف دی گئی تو اس سے وہ کیسے ذلیل ہوئی۔پس سوال ہتک کا نہیں تھا بلکہ سوال یہ تھا کہ ایک گورنمنٹ جس سے ہم تعاون کرتے ہیں قدرتی طور پر ہم اس سے حق اور انصاف چاہتے ہیں تاکہ ہمارا تعاون ناجائز نہ ہو۔اگر ایک گورنمنٹ کے متعلق ہمیں یقینی طور پر یہ پتہ لگ جائے کہ وہ ظالم ہے اور انصاف سے کام نہیں لیتی تو اس سے تعاون کرنا ہمارے لئے ناجائز ہو جائے گا۔غرض ہمارے اور گورنمنٹ کے درمیان اس معاملہ کے متعلق عرصہ تک خط و کتابت ہوتی رہی۔ڈیڑھ مہینہ کی بات ہے کہ گورنمنٹ نے کمشنر صاحب لاہور کو اس غرض کے لئے مقرر کیا کہ وہ اس معاملہ کے متعلق میرے پاس اظہارِ افسوس کریں چنانچہ وہ گورداسپور آئے اور ان کی چٹھی مجھے آئی کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں کیا آپ مجھے یہاں آکر مل سکتے ہیں ؟ اور اگر آپ نہ مل سکتے ہوں تو اپنے کسی رشتہ دار کو ہی بھجوا دیں کیونکہ گورنمنٹ کی طرف سے میں ایک پیغام لایا ہوں۔جو آپ کو پہنچانا چاہتا ہوں مجھے قبل از وقت معلوم ہو چکا تھا کہ کمشنر صاحب لاہور اس غرض کے لئے آنے والے ہیں چنانچہ میں نے انہیں کہلا بھیجا کہ مجھے اگر آپ سے ملاقات کی ضرورت ہوتی تو میں خود آپ کے پاس آتا مگر چونکہ کام آپ کو ہے اس لئے میرے آنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہو تا۔اگر کسی افسر کو مجھ سے کوئی کام ہے تو یہ اس کا فرض ہے کہ وہ میرے پاس آئے۔نہ یہ کہ میں اس کے پاس جاؤں۔باقی مجھے معلوم ہے کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ گورنمنٹ کی طرف سے آپ کو واقعہ ڈلہوزی پر اظہار افسوس کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔مگر آپ مجھے یہ بتائیں کہ وہ واقعہ گور نمنٹ کی نادانی سے پر لیس میں آچکا اور سارے ہندوستان میں مشہور ہو چکا ہے۔اب اگر میں یہ اعلان کر دوں کہ گورنمنٹ نے اپنی غلطی کا ازالہ کر دیا ہے اور اس نے اپنے فعل پر اظہار افسوس کیا ہے تو دشمن ہنسے گا اور کہے گا کہ خود ہی ایک بات بنائی گئی ہے ورنہ گورنمنٹ نے اظہار افسوس نہیں کیا۔جیسے ہمارے پنجابی زبان میں ضرب المثل ہے کہ آپ میں رتی بچی ! آپ میرے بچے جیون۔” اگر گورنمنٹ اس فعل پر اظہار ندامت کرنا چاہتی ہے۔تو اسے چاہئے کہ تحریر کرے تاکہ