خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 162

* 1942 162 خطبات محمود اس نے وہی بیان دیا جو پادریوں کے سکھلانے پر دے چکا تھا مگر میں نے اسے کہا کہ جو بات ہے سچ سچ بیان کر دو اور بہت دیر میں اسے نصیحت کرتا رہا کہ جھوٹ نہیں بولنا چاہئے اور جو اصل واقعہ ہے وہ سچ سچ بیان کر دینا چاہئے۔وہ کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ اس دوران میں وہ کبھی کچھ کہنے کی کوشش کرتا مگر پھر رک جاتا۔آخر میں نے اسے کہا اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہیں صحیح واقعات بیان کر دینے کے بعد پھر پادریوں کے حوالے کر دیا جائے گا اور وہ تمہیں دکھ دیں گے تو میں تمہیں اطمینان دلاتا ہوں کہ تمہیں مشن والوں کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔تم جو کچھ واقعہ ہے سچ سچ بیان کر دو۔اس پر وہ روتا ہو اسپر نٹنڈنٹ پولیس کے قدموں میں گر گیا اور کہنے لگا کہ پادریوں نے مجھے سکھلا کر مجھ سے جھوٹا بیان دلوایا ہے ورنہ حضرت مرزا صاحب بالکل بری ہیں۔اب یہ ایک ایسا الہی تصرف تھا جو ڈپٹی کمشنر کے دل پر ہوگا اور جس نے حالات کو بالکل بدل دیا۔پس اگر کسی جگہ خاص طور پر سلسلہ پر زد پڑتی ہو یا دشمن کو کوئی خاص جھوٹی خوشی نصیب ہوتی ہو جس کا دکھانا اللہ تعالیٰ کو منظور نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اپنے خاص تصرف کے ماتحت اس قسم کے سامان بھی پیدا کر دیا کرتا ہے۔جن سے دشمنوں کو جھوٹی خوشی بھی نصیب نہیں ہوتی اور سلسلہ دشمن کی زد سے محفوظ رہتا ہے ورنہ عام طور پر انبیاء کی ہتک کرنے والے ان کی ہتک کرنے کی کوشش کیا ہی کرتے ہیں اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس سے انبیاء کی نہیں بلکہ خود ان کی ہتک کرنے والوں کی ہتک ہوتی ہے اور وہی لوگ جو نبیوں کی ہتک کرنے والے ہوتے ہیں جب بعد میں ایمان لے آتے ہیں یا اگر وہ ایمان نہیں لاتے اور ان کی نسلیں ایمان لاتی ہیں تو اس وقت وہ سخت شرمندہ ہوتے ہیں اور ان کا نفس ایسی ذلت محسوس کرتا ہے جسے وہ کبھی بھول نہیں سکتے۔در حقیقت یہ ان کے دل پر ایک بڑا بھاری زخم ہوتا ہے کہ کچھ تو ان میں سے انبیاء کے مقابلہ میں مارے جاتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو بعد میں صداقت کو قبول کر لیتے ہیں مگر ساری عمر ان کے دلوں پر یہ گھاؤ رہتا ہے کہ انہوں نے انبیاء اور ان کی جماعتوں کو تکلیف دی اور ان پر کئی قسم کے ظلم کئے۔تو اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور ان کی جماعتوں کی کبھی ہتک نہیں ہوتی، نہیں ہو سکتی۔پس اس میں ہماری ہتک کا کوئی سوال ہی نہیں۔وہ ہتک نہ