خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 141

خطبات محمود 141 * 1942 غرض مختلف قسم کے ذرائع جن کا کچھ بھی نتیجہ نہیں نکلتا۔لوگ اختیار کرتے ہیں مگر جو سچا اور حقیقی ذریعہ ہے اللہ تعالیٰ کی امداد اور اس کی نصرت حاصل کرنے کا، اس کو لوگ بھول جاتے ہیں حالانکہ یہ خدا تعالیٰ کا بتایا ہوا رستہ ہے۔اور یہ وہ رستہ ہے جس پر چلنے والے کی مدد کرنے کا خود اس نے وعدہ کیا ہوا ہے۔پس قرآن کریم کی ان دعاؤں کو یارسول کریم صلی علی یم کی بتائی ہوئی دعاؤں کو یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی الہامی دعاؤں کو خاص طور پر پڑھنا اور جماعتی طور پر پڑھنا یقیناً بہت نیک نتائج پیدا کرنے والی چیز ہے۔پس ان پر خطر ایام میں ان دعاؤں پر خاص طور پر زور دینا چاہئے اور جماعتی طور پر زور دینا چاہئے۔جماعتی طور پر دعاؤں پر زور دینے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جو لوگ کمزور ہوتے ہیں وہ بھی اس طرح دعاؤں میں شریک ہو جاتے ہیں۔جب جماعتی رنگ میں دعا نہیں ہوتی تو صرف چند لوگ دعا کرتے ہیں اور باقی غفلت اور سستی کی وجہ سے یا اپنی بے علمی کی وجہ سے ان دعاؤں میں حصہ نہیں لے سکتے۔کئی لوگ دعا کا ارادہ تو رکھتے ہیں مگر بھول جاتے ہیں اور کئی ایسے ہوتے ہیں جو بھولتے تو نہیں مگر ان کو دعائیں آتی ہی نہیں اور ان میں اتنی چستی یا اتنا علم نہیں ہو تا کہ وہ ان دعاؤں کو یاد کر سکیں۔پھر کئی ایسے بھی ہوتے ہیں جو غفلت کی وجہ سے ان دعاؤں میں اتنے جوش کا اظہار نہیں کرتے جتنے جوش کا اظہار انہیں کرنا چاہئے مگر جب اس قسم کے لوگ دوسروں کے ساتھ دعا میں شامل ہوتے ہیں تو انہیں بھی دعاؤں میں جوش پیدا ہو جاتا ہے اور اجتماعی دعاؤں میں ہمیں ہمیشہ یہ نظارہ نظر آتا رہتا ہے۔چنانچہ جلسہ سالانہ کے اختتام پر یا مجلس شوری کے آخر میں یار مضان کے دنوں میں درس قرآن کریم کے خاتمہ پر جب اجتماعی رنگ میں دعا کی جاتی ہے تو کس طرح لوگ چیخ چیخ کر رونے لگ جاتے ہیں حالانکہ وہی لوگ اپنے گھروں میں شاید دو دو مہینے میں بھی دعاؤں میں ایک آنسو نہیں بہاتے مگر ایسی مجالس میں شامل ہو کر ان کے دو دو سو آنسو بہہ جاتے ہیں اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ اپنے ساتھیوں کو دیکھ کر اور ان کے پاس بیٹھنے کی وجہ سے ایسا روحانی اثر ان پر پڑتا ہے کہ ان میں ایک تبدیلی پید ا ہو جاتی ہے گو وہ تبدیلی عارضی اور وقتی ہوتی ہے مگر بہر حال اس وقت ان میں ایسا جوش اور اخلاص رونما ہو جاتا ہے اور ان کی دعاؤں میں ایسی رفت اور ایسا سوز و گداز پیدا ہو جاتا ہے جو ان کی