خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 14

* 1942 14 خطبات محمود موجود ہے وہ اگر دس لاکھ روپیہ چندہ دے دیتا ہے تو گو یہ بھی ایک نیکی ہے مگر اس کے مقابلہ میں وہ شخص جس کے پاس صرف مٹھی بھر جو تھے اور اس نے وہ تمام کے تمام جو خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دیئے اور اپنے لئے یا اپنی بیوی اور بچوں کے لئے اس نے کچھ نہیں رکھا۔وہ یقیناً ان دس لاکھ روپے دینے والے سے خدا تعالیٰ کے حضور زیادہ عزت کا مستحق ہے۔کیونکہ دس لاکھ دینے والے کی نیت یہ تھی کہ میں اپنی جائداد کا دسواں حصہ خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دوں اور مٹھی بھر جو دینے والے کی نیت یہ تھی کہ میرے پاس جو کچھ ہے وہ میں خد اتعالیٰ کے رستہ میں قربان کر دوں۔بے شک اس کے پاس صرف مٹھی بھر جو تھے جو اس نے دے دیئے لیکن اس نیت کے مطابق اگر اس کے پاس ایک کروڑ روپیہ ہوتا تو وہ اس ایک کروڑ روپیہ میں سے دس لاکھ نہ دیتا، ہمیں لاکھ نہ دیتا، تیس لاکھ نہ دیتا بلکہ جس طرح اس نے سالم مٹھی جو کی خدا تعالیٰ کی راہ میں پیش کر دی تھی اسی طرح وہ سب کا سب روپیہ خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دیتا اور اپنے پاس ایک پیسہ بھی نہ رکھتا۔تو رسول کریم صلی الم فرماتے ہیں الاعمال بالنیات۔یہ مت خیال کرو کہ تمہارے اعمال ظاہری صورت میں خدا تعالیٰ کے پاس جاتے ہیں وہ ظاہری صورت میں نہیں جاتے بلکہ جس قسم کی نیت کے تابع ہوتے ہیں اسی قسم کی نیت کے ساتھ خدا تعالیٰ تک پہنچتے ہیں۔ایک ایسا شخص جو اچھی طرح بول بھی نہیں سکتا وہ اگر ٹوٹی پھوٹی زبان میں کسی کو تبلیغ کرتا ہے تو کیا تم سمجھتے ہو کہ خدا تعالیٰ کے حضور اس کا مقام ادنی ہو گا اور وہ شخص جو بڑالستان ہو، بڑا مشہور لیکچرار ہو اور اپنی تقریر سے لوگوں کو گرویدہ بنالیتا ہو اس کا مقام زیادہ بلند ہو گا؟ ایسا ہر گز نہیں ہو گا بلکہ خدا تعالیٰ کے حضور دونوں کی نیت دیکھی جائے گی۔بسا اوقات ایسا ہو گا کہ جو شخص نہایت عمدہ تقریر کرنے والا ہے اس کی نیت خدا تعالیٰ کی رضا کا حصول نہیں ہو گی بلکہ وہ اس لئے تقریریں کرتا ہو گا تاکہ لوگ واہ واہ کریں اور اس کی تعریف کریں۔پھر یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی نیت تو خدا تعالیٰ کی رضا کا حصول اور اس کی مخلوق کو فائدہ پہنچانا ہی ہو مگر اس کے دل میں وہ سوز اور گداز نہ ہو جس کے بغیر قلوب کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔پھر بعض دفعہ ایسا بھی ہو۔سکتا؟ کہ ایک شخص نہایت عمدہ تقریر کرنے والا ہو ، اس کے دل میں سوز اور گداز بھی ہو مگر اس کے