خطبات محمود (جلد 23) — Page 13
* 1942 13 خطبات محمود حضور جس وقت ارواح پیش ہوں گی اس وقت وہ لوگ جو خالد سے سالہا سال پیچھے آئے اور جنہوں نے خالد سے سینکڑوں گنا کم قربانیاں کی تھیں وہ تو شہیدوں کی صف میں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گے اور حضرت خالد پچھلی صف میں محض صلحاء کے زمرہ میں پیش ہوں گے۔یہ کبھی نہیں ہو سکتا بلکہ حق یہ ہے کہ اگر ان شہداء کی ارواح صرف ایک ایک شہید کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گی تو حضرت خالد کی روح ہزاروں شہیدوں کی صورت میں خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کی جائے گی۔کیونکہ انما الاعمالُ بِالنِّيَّاتِ - اعمال نیت کے تابع ہوتے ہیں۔نہ کہ نیت اعمال کے تابع ہوتی ہے۔اگر ان لوگوں نے صرف ایک ایک دفعہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہونے کا ارادہ کیا اور وہ شہید ہو گئے تو خالد نے سینکڑوں دفعہ خدا تعالیٰ کی راہ میں شہید ہونے کا ارادہ کیا تھا گو حکمت الہی نے انہیں ظاہر میں شہید نہ ہونے دیا۔اگر عمل پر خدا تعالیٰ جزا دیتا تو وہ ہزاروں لوگ جن کے دلوں میں بہت زیادہ قربانی کا جذبہ ہوتا ہے مگر حالات کی وجہ سے وہ اپنے دل کے حوصلے نہیں نکال سکتے اور قربانیاں اپنے دل کے ارادہ کے مطابق نہیں کر سکتے وہ تو محروم رہ جاتے۔اور جن کو کسی قربانی میں شریک ہونے کا موقع مل جاتا گو ان کا دل بہت زیادہ قربانی پر آمادہ نہ ہو تاوہ زیادہ ثواب لے جاتے مگر اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرے گا۔پھر اگر انسانی اعمال پر ہی اللہ تعالیٰ کی جزاء کا انحصار ہوتا تو جتنے امراء ہیں وہ دنیا میں بھی آرام سے رہیں اور اگلے جہان میں بھی زیادہ انعامات لے جائیں۔مگر ایسا نہیں ہو گا۔ایک کروڑ پتی آدمی اگر چاہے تو آسانی سے دس لاکھ روپیہ چندہ دے سکتا ہے مگر ایک غریب آدمی جس کے پاس صرف ایک مٹھی بھر آتا ہے وہ اس سے ایک دانہ زیادہ بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں نہیں دے سکتا۔اب اگر خدا تعالیٰ کے حضور محض یہی بات دیکھی جاتی کہ ایک شخص نے دس لاکھ روپے دیئے ہیں اور دوسرے نے صرف مٹھی بھر آناتو کہا جاسکتا تھا کہ خدا تعالیٰ انسانی عمل کو دیکھتا ہے۔اس کی نیت کو نہیں دیکھتا اور اس صورت میں صرف وہی لوگ انعامات حاصل کر سکتے جو امراء ہوتے یا جنہیں کسی قربانی میں شامل ہونے کا موقع ملا ہو تا۔مگر اللہ تعالیٰ ان باتوں کو نہیں دیکھتا اور نہ اس کی نظر ظاہر پر ہوتی ہے بلکہ وہ انسان کی نیت اور اس کے ارادہ کو دیکھتا اور اسی کے مطابق اس سے سلوک کرتا ہے۔ایک ایسا شخص جس کے پاس ایک کروڑ روپیہ