خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 110

* 1942 110 خطبات محمود چھپوائی کا انتظام فرما دے۔مجھے افسوس ہے کہ جب اُس کی چھپوائی کا فیصلہ ہو چکا تو بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ وہ نوٹ ابھی صحیح ترتیب سے لکھے ہی نہیں گئے۔متفرق طور پر تو لکھے ہوئے ہیں مگر چھپوائی کے لئے جس ترتیب کی ضرورت ہوتی ہے۔وہ ترتیب ابھی نہیں دی گئی۔اس لئے اب ان نوٹوں کو ترتیب دینا بہت بڑی محنت کا کام ہو گا اور مجھے کئی آدمی اس غرض کے لئے لگانے پڑیں گے۔بہر حال دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کام کو عمدگی کے ساتھ سر انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔اس کے بعد میں ان خطبات کے تتمہ کو بیان کرنا چاہتا ہوں جو گزشتہ دو جمعوں میں میں نے پڑھے ہیں۔میں نے ان خطبات میں جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ دعا ہی ہمارا ہتھیار ہے اور دعا ہی ہماری مشکلات کا واحد علاج ہے ورنہ اور سب حیلے جاتے رہے ہیں جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔حیلے سب جاتے رہے اک حضرت تواب ہے 2 پس اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی حیلہ ہمارے پاس باقی نہیں۔اس وقت ایک ایسے زبر دست دشمن سے ہمارے ملک کی لڑائی ہے جو اپنے ساز و سامان کے لحاظ سے اس بات کا مدعی ہے کہ اس کے پاس انگریزوں اور امریکنوں سے زیادہ طاقت موجود ہے اس کے مقابلہ میں ہندوستان کے پاس کوئی بھی طاقت نہیں اور عوام تو بالکل خالی ہاتھ ہیں حالانکہ تجربہ یہ بتاتا ہے کہ جنگ کے دوران میں جب تباہی آتی ہے تو وہ صرف حکومت پر ہی نہیں آتی بلکہ اس کا رعایا پر بہت زیادہ اثر پڑتا ہے چنانچہ وہ ہزاروں ہزار آدمی جو برما اور ملا یا سے نکل کر آئے ہیں۔ان کی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ جو تکلیفیں اور دکھ ان کو اٹھانے پڑے ہیں۔ان کا قیاس بھی ہم لوگ اس جگہ پر نہیں کر سکتے۔کئی کئی دن بم باری کی وجہ سے لوگوں کو اپنے گھروں سے باہر رہنا پڑا، وہ نہ کھانا پکا سکتے تھے، نہ دفتروں کو جاسکتے تھے ، نہ دکانوں میں بیٹھ سکتے تھے اور نہ ہی اپنے مکانوں میں واپس جاسکتے تھے اس خوف سے کہ کہیں وہ مکانوں کے نیچے دب کر ہلاک نہ ہو جائیں۔بعض دوستوں نے بتایا کہ جس وقت بعض علاقے انگریزی فوج خالی کر رہی تھی اور دشمن کی آمد کا انتظار تھا۔اس وقت بد طینت اور بد اخلاق لوگ ڈاکوؤں کی صورت میں شہروں کو