خطبات محمود (جلد 22) — Page 94
* 1941 94 خطبات محمود کہ وہ بیوی بچوں کو قادیان میں چھوڑ کر آپ کہیں باہر بھاگ جاتے ہیں۔نتیجہ ہوتا ہے کہ ان کے بیوی بچے سلسلہ پر بار بن جاتے ہیں اور پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں کے پاس چٹھیوں پر چٹھیاں آنی شروع ہو جاتی ہیں کہ ہم بھوکے مر گئے ہمارا کوئی انتظام کیا جائے۔اب بظاہر تو ایسا شخص جو بیوی بچوں کو قادیان میں بٹھا کر آپ کہیں غائب ہو جائے کہہ سکتا ہے کہ کسی کو مجھ پر اعتراض کرنے کا کیا حق ہے۔بیوی بچے چھوڑے ہیں تو میں نے اور اگر بھوکے مریں گے تو میرے بیوی بچے مریں گے کہ کسی اور کے۔لیکن اگر یہی اصل قوم اختیار کر لے اور ان کی طرف توجہ نہ کرے تو آیا تمام جماعت ایک ملامت کے نیچے آئے گی یا نہیں کہ فلاں فلاں آدمی بھوکے مر گئے اور جماعت نے ان کی طرف کوئی توجہ نہ کی۔تو یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ لوگوں کا اس کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ ان کا تعلق ہے اور ضرور ہے کیونکہ اگر وہ ان کی خبر نہ لیں تو بدنام ہو جائیں۔پس قوم ان کی خبر گیری کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔حالانکہ اگر ایسے لوگ خود محنت کریں اور مشقت کا کام کر کے اپنی روزی کمائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ اور ان کے بیوی بچے قوم پر بار ثابت ہوں۔پس محنت نہ کرنا بھی کسی کا ذاتی فعل نہیں بلکہ ایک قومی جرم ہے۔اسی طرح گو آجکل یہ بات کسی قدر کم ہو گئی ہے مگر پہلے بالعموم مسلمان تاجر اور کارخانہ دار بھی ہندوؤں کو ملازم رکھتے تھے مسلمانوں کو نہیں۔اور جب پوچھا جائے کہ مسلمانوں کو کیوں ملازم نہیں رکھتے تو ہمیشہ یہی جواب دیتے کہ کوئی مسلمان دیانتدار ملتا نہیں۔حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔مسلمانوں میں بھی بڑے بڑے دیانت دار لوگ پائے جاتے ہیں مگر جانتے ہو اس کی تہہ میں کیا بات ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جب مسلمانوں کا ایک حصہ بددیانت ہو گیا تو اس نے باقیوں کو بھی بد دیانت مشہور کر دیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ چند بد دیانت اور خائن مسلمانوں کی