خطبات محمود (جلد 22) — Page 93
$1941 93 خطبات محمود نہ کروں یہ میرا اختیار ہے تمہیں اس میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے؟ اب بظاہر یہ جواب صحیح معلوم ہوتا ہے رجب نتیجہ دیکھا جائے تو اس کی حقیقت معلوم ہو جاتی ہے اور وہ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تھوڑے ہی عرصہ کے بعد اس کے بیوی بچے کہتے پھرتے ہیں کہ ہم بھوکے مر گئے ، ہمارا کوئی خیال کرے۔اب ایک تو وہ غریب ہوتے ہیں جن کو کما کر کھلانے والا کوئی نہیں ہوتا۔اور ایک یہ غریب ہوتے ہیں کہ ان کا کمانے والا موجود ہے مگر وہ کماتا نہیں اور محنت سے جی چراتا ہے۔اگر وہ محنت سے کام کرتا اور خود کما کر بیوی بچوں کو کھلاتا تو صدقہ و خیرات کا ایک حصہ اس کے بیوی بچوں پر خرچ کرنے کی بجائے ان غرباء پر خرچ کیا جاتا جن کو کما کر کھلانے والا کوئی نہیں۔اور حق بحقدار رسید پر عمل ہوتا۔لیکن اگر بعض گھروں میں کمانے والے تو موجود ہوں مگر وہ کما کر نہ لائیں تو نتیجہ یہ ہو گا کہ صدقہ و خیرات کی رقم بٹ جائے گی اور کچھ تو ان غرباء کو ملے گی جن کا کمانے والا کوئی نہیں اور کچھ ان کو ملے گی جن کے کمانے والے تو ہیں مگر وہ محنت نہیں کرتے اور اس طرح اصل مستحقین کی روٹی آدھی ہو جائے گی۔آخر محلے والوں کے پاس کوئی جادو تو نہیں ہوتا کہ وہ جتنا روپیہ چاہیں دوسروں کو دے دیں وہ اپنے اخراجات میں سے تنگی برداشت کر کے کچھ روپیہ بچاتے اور غرباء کو دیتے ہیں مگر یہ نکے لوگ غرباء کے حصہ کو کھا جاتے اور اپنی قوم اور اپنے محلہ والوں پر ایک بوجھ بنے رہتے ہیں۔اگر اس قسم کے لوگوں کے بیوی بچے دوسروں سے کچھ مانگیں نہ اور یہ نہ کہیں کہ ہمیں کچھ دو ہم بھوکے مر رہے ہیں تو کم از کم یہ ضرور کہیں گے کہ ہمیں اتنا ادھار دے دو۔جو لوگ شریف ہوتے ہیں وہ ان کو دے تو دیتے ہیں مگر دل میں یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ نہ ان لوگوں نے روپیہ کمانا ہے اور نہ ان سے ہمیں واپس ملنا ہے۔اب دیکھ لو محنت نہ کرنے کا اثر قوم پر پڑا یا نہیں؟ پھر بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں