خطبات محمود (جلد 22) — Page 75
*1941 75 خطبات محمود باتیں کرتے رہے میں بیٹھا رہا۔میری عمر اس وقت 22، 23 سال کی تھی۔وہاں مولوی محمد علی صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب، ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب اور ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب بھی تھے۔خواجہ کمال الدین صاحب کے متعلق یاد نہیں کہ تھے نہیں۔باتیں ہوتی رہیں اور میں خاموش بیٹھا رہا آخر مجھ سے پوچھا گیا کہ آپ کی کیا رائے ہے۔میں نے کہا میری رائے آپ لوگ کیا پوچھتے ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح کی مرضی ہے کہ سابق مالکوں کو اسی رقم میں مکان دے دیا جائے اور میری بھی یہی رائے ہے۔میرے جواب میں ان میں سے کسی نے کہا کہ میاں صاحب خليفة نے اجازت دے دی ہے۔ان لوگوں نے جب حضرت خلیفۃ المسیح اول کے خلاف کوئی بات کرنی ہوتی تو ان کا قاعدہ تھا کہ آپ کے تقویٰ و طہارت کی بہت تعریف کرتے تھے۔چنانچہ کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر کتنا احسان ہے کہ اس نے ہمیں ایسا خلیفہ دیا ہے جو بہت متقی اور دین کے اموال کا بہترین محافظ ہے۔چنانچہ آپ نے اجازت دے دی ہے۔میں نے کہا خوب۔پھر تو بہت اچھی بات ہے مگر وہ اجازت ذرا مجھے بھی دکھائیے۔چنانچہ مجھے آپ کی تحریر دکھائی گئی۔اسے دیکھ کر میں نے کہا کہ یہ اجازت تو نہیں یہ تو ناراضگی کا اظہار ہے۔میرا یہ کہنا تھا کہ سب کے - میرے پیچھے پڑ گئے اور کہنے لگے کہ میاں صاحب! تقویٰ اختیار کریں۔یہ قوم کا مال ہے، خدا تعالیٰ کا مال ہے، خدا تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے؟ میں نے کہا کہ ہم سب سے زیادہ تقویٰ کا خیال حضرت خلیفة المسیح کو ہے اور خدا تعالیٰ کو جواب دینے کی فکر بھی ان کو سب سے زیادہ ہے اور وہ خدا تعالیٰ کے سامنے ہم سب سے زیادہ ذمہ دار ہیں۔جب ہم مانتے ہیں کہ وہ علم میں ہم سب سے زیادہ ہیں اور جماعت کا خلیفہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بنایا ہے تو سلسلہ کے اموال کے متعلق سب سے زیادہ درد اور تقویٰ کا معیار انہیں کو حاصل ہے۔اس لئے وہ جو فرماتے ہیں وہی درست ہے اور میرے نزدیک ہمارے لئے تقویٰ کی راہ یہی ہے کہ ان کی بات مان لی جائے۔اس پر سب نے مل کر تقویٰ کرو تقویٰ کرو کی بوچھاڑ شروع کر دی۔میں نے کہا میں نے اپنی رائے