خطبات محمود (جلد 22) — Page 7
$1941 7 خطبات محمود۔کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔یہ لوگ احمدی کہلاتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے سارے کلام پر ایمان رکھتے ہیں گو اس کے بعض حصوں کے معنے اور کرتے ہیں۔اور دوسروں کی نسبت ہمارے زیادہ قریب ہیں۔گو ان کے دلوں میں ہم سے دشمنی ہے مگر وہ اپنے ائمہ کی پیروی میں ہے جن کے دل ہمارے خلاف بغض سے بھرے ہوئے ہیں اور ان کے اس بغض کا پرتو ہی عوام پر پڑتا ہے۔ان کے اپنے دل کی یہ کیفیت نہیں اس لئے ان کا زیادہ حق ہے کہ ہم ان ہدایت کے لئے کوشش کریں۔پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی اپنی جگہ پر جہاں جہاں بھی پیغامی ہوں مثلاً لاہور، سیالکوٹ، راولپنڈی، فیروز پور، پشاور وغیرہ ان سب کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ خصوصیت کے ساتھ ان کی طرف متوجہ ہوں اور اس سال کوشش کریں کہ ان میں سے زیادہ سے زیادہ کو ہدایت نصیب ہو۔گزشتہ سالوں میں ان لوگوں نے ہم پر ناواجب طور حملے کئے ہیں۔پر انہوں نے ہمارے ایسے دشمنوں کی مدد کی ہے اور ان کو چندے دیئے ہیں جنہوں نے بلا وجہ ہم پر حملے کئے اور ہم پر ناواجب اتہامات لگائے۔گو وہ انکار کرتے ہیں کہ ہم نے ان کی مدد نہیں کی مگر ان کے اپنے کئی لوگوں نے اس بات کا اقرار کیا ہے۔دراصل ان کا انکار ایسا ہی ہے جیسے بعض پرانے مولویوں نے بعض ناجائز باتوں کو جائز کرنے کے لئے بعض حیلے تراش رکھے ہیں۔مثلاً عید کی نماز کے بعد قربانی کا حکم ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی کا دل چاہے کہ نماز سے پہلے اپنی قربانی کا گوشت کھائے تو وہ یوں کر سکتا ہے کہ کسی گاؤں میں جانور لے جا کر ذبح کر لے کیونکہ جہاں عید کی نماز نہ ہوتی ہو وہاں یہ شرط نہیں۔عید کی نماز تو شہر میں ہوتی ہے دیہات میں نہیں۔پس کسی گاؤں میں جاکر جہاں عید کی نماز نہ ہوتی ہو نماز سے قربانی کر کے اپنے گھر میں لائی جا سکتی ہے۔ظاہر ہے کہ یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب قربانی کو آدمی چٹی سمجھے۔