خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 690 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 690

* 1941 690 خطبات محمود کرنے کو نیت میں شامل کرنے کی کیا ضرورت ہے۔اگر کوئی جلسہ کی نیت کے ساتھ آتا ہے۔مگر ساتھ اپنا سامان بھی فروخت کرتا ہے تو اس کے کام میں اسے کوئی فرق تو نہیں پڑ سکتا۔لیکن اگر جلسہ میں آنے کی نیت کے ساتھ وہ تجارت یا رشتہ داروں کی ملاقات کی نیت کو شامل کرتا ہے تو یہ دودھ میں پانی ملانے والی بات ہے۔یہ بھی ، معاملہ بہت پیچیدہ معاملہ ہے۔رسول کریم صلی الی یکم نے فرمایا ہے الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ 2 یعنی اعمال کی بناء نیتوں پر ہے۔اور اگر نیت کے معنی کوئی اچھی طرح سمجھ لے تو بہت بڑے فوائد حاصل کر سکتا ہے۔فقہاء نے اس بات پر زور دیا ہے کہ نماز کے لئے نیت ضروری ہے اور جن لوگوں نے اس بات کی حقیقت کو سمجھا انہوں نے فائدہ بھی اٹھایا۔شریعت کا اصل منشاء یہ ہے کہ جب انسان نیت کرے گا تو کام سے پہلے کرے گا اور فعل اور نیت کے درمیان جو وقفہ ہو گا اس میں بھی اسی طرف متوجہ ہو گا اور اس طرح وہ وقت بھی اس کا نماز میں ہی گویا گزرے گا۔لیکن آگے بنانے والوں نے اس کا کیا نتیجہ بنا لیا۔کہتے ہیں کہ کسی شخص کو وہم کی بیماری تھی۔ادھر یہ شبہ ڈال دیا گیا تھا کہ اگر نماز کی نیت اس رنگ میں نہ کی جائے جو مولوی بتاتے ہیں تو نماز نہیں ہوتی۔اسے وہم کی بیماری تھی اس لئے جب نماز کے لئے کھڑا ہوتا تو کہتا چار رکعت فرض نماز ظہر پیچھے اس امام کے اور یہ کہتے ہوئے انگلی کے ساتھ امام کی طرف اشارہ کرتا۔لیکن پھر اس کے دل میں شبہ پیدا ہوتا کہ شاید میری انگلی کا اشارہ سیدھا امام کی طرف ہوا ہے یا نہیں۔اس لئے وہ صفیں چیر کر پہلی صف میں پہنچتا اور پھر امام کی طرف انگلی کر کے کہتا پیچھے اس امام کے۔پھر بھی شبہ رہتا کہ شاید انگلی کا اشارہ بالکل صحیح طور پر سیدھا نہ کیا جا سکا اور اس لئے کو انگلیاں مار مار کر کہتا پیچھے اِس امام کے۔تو یہ غلط مفہوم ہے نیت کا۔فقہاء نے جو لکھا اس کا مطلب یہی ہے کہ انسان نماز کو خدا تعالیٰ کے لئے خاص کر دے اور جب پڑھنے لگے تو اسے یہی خیال ہو کہ میں یہ نماز خدا تعالیٰ کی خاطر اور اس کے امام