خطبات محمود (جلد 22) — Page 689
* 1941 689 خطبات محمود اور پھر وہ نفل بھی فرض بن جاتا ہے۔پس ہماری جماعت کا یہاں جمع ہونا جس غرض اور جس مقصد کے لئے اسے مد نظر رکھتے ہوئے ہر فرد جو گھر سے نکلتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے نیت کو نیک کرے۔قادیان میں ہزاروں لوگ باہر سے آکر آباد ہیں ان کے گاؤں اور شہروں سے جلسہ کے لئے قادیان آنے والے یہ بھی نیت کر سکتے ہیں کہ جلسہ بھی دیکھیں گے اور اپنے رشتہ داروں سے بھی ملیں گے۔بعض لوگ یہ نیت بھی کر سکتے ہیں کہ جلسہ پر بھی ہو آئیں گے اور اس موقع پر اپنے یا اپنے کسی عزیز کے نکاح کا اعلان بھی کرا لیں گے۔کئی تاجر پیشہ دوست بھی آتے ہیں۔وہ یہ نیت کر سکتے ہیں کہ جلسہ بھی ہو جائے گا اور اس موقع پر بہت سے لوگ جمع ہوں گے اس لئے اپنی چیزیں بھی فروخت کریں گے مگر یہ خیال ایسا ہی ہے جیسے کوئی دکاندار دودھ میں پانی ملا کر فروخت کرے یا گھی میں بعض لوگ کئی قسم کی چربیاں وغیرہ ملا لیتے ہیں یا کھانڈ میں آٹا ملا دیتے ہیں۔جب انسان خدا تعالیٰ کے لئے ایک کام کرتا ہے تو اس میں دوسری نیت شامل کیوں کرے۔جب اللہ تعالیٰ نے یہ اجازت دی ہے کہ دوسرے کام بھی کئے جا سکتے ہیں تو اس کی نیت کرنے کی کیا ضرورت ہے۔خدا تعالیٰ نے اجازت دی ہے کہ حج کے لئے جو لوگ جاتے ہیں۔ان میں سے اگر کوئی تجارت بھی کر لے تو جائز ہے لیکن اگر کوئی حج کی نیت اس لئے کرے کہ حج بھی کروں گا اور تجارت بھی کروں گا تو یہ نیک عمل کو ضائع کرنے والی بات ہے۔اگر وہ خالص حج کی نیت کرے تو کیا تجارت نہ ہو سکے گی۔انسان یہ کیوں کہے کہ چلو جی جلسہ چلتے ہیں۔وہاں فلاں نکاح بھی پڑھوائیں گے یہ نیت کیوں نہ کرے کہ جلسہ پر تو جانا ہے اور دین کے لئے جانا ہے۔پھر اگر اس موقع پر شادی کا انتظام ہو سکے تو اس میں کوئی رکاوٹ تو پیدا نہ ہو جائے گی۔یا اگر یہ نیت ہو کہ اس مقدس اجتماع میں ضرور شامل ہونا ہے۔تو کیا اس کے رشتہ دار اسے ملنے سے انکار کر دیں گے یا وہ اسے نظر نہ آئیں گے؟ رشتہ داروں سے ملنے یا تجارت کرنے یا شادی کا انتظام ضرور پر