خطبات محمود (جلد 22) — Page 671
* 1941 671 خطبات محمود اور ساتھ ہی اس نے بعض عمارتیں بھی بنائی ہوئی ہیں جنہیں وہ کرایہ پر مسافروں کو دے دیتا ہے۔وہاں چلیں، وہ مقام سب سے بہتر رہے گا۔میں کہتا ہوں بہت اچھا۔۔چنانچہ میں گائیڈ کو ساتھ لے کر پیدل چل پڑتا ہوں۔ایک و دو دوست اور بھی میرے ساتھ ہیں۔چلتے چلتے ہم پہاڑوں کی چوٹیوں پر پہنچ گئے مگر وہ ایسی چوٹیاں ہیں جو ہموار ہیں۔اس طرح نہیں کہ کوئی چوٹی اونچی ہو اور کوئی نیچی۔جیسے عام پہاڑوں کی چوٹیاں ہوتی ہیں بلکہ وہ سب ہموار ہیں جس کے نتیجہ میں پہاڑ پر ایک طور پر میدان سا پیدا ہو گیا ہے۔وہاں میں نے دیکھا کہ ایک پادری کالا سا کوٹ پہنے ہے اور پاس ہی ایک چھوٹا سا گر جا ہے۔اس آدمی نے پادری سے کہا کہ باہر سے کچھ مسافر آئے ہیں انہیں ٹھہرنے کے لئے مکان چاہئے۔وہاں ایک مکان بنا ہوا نظر آتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ پادری لوگوں کو کرایہ پر جگہ دیتا ہے۔اس نے ایک آدمی سے کہا کہ انہیں مکان دکھا دیا جائے۔وہ مجھے مکان دکھانے کے لئے لے گیا۔ایک دو دور دو دوست اور بھی ہیں۔میں نے دیکھا کہ وہ کچا مکان ہے اور جیسے فوجی بار کیں سیدھی چلی جاتی ہیں اسی طرح وہ مکان ایک لائن میں سیدھا بنا ہوا ہے مگر کمرے صاف ہیں۔میں ابھی غور ہی کر رہا ہوں کہ جو شخص مجھے کمرے دکھا رہا تھا اس نے خیال کیا کہ کہیں میں یہ نہ کہہ دوں کہ یہ ایک پادری کی جگہ ہے ہم اس میں نہیں رہتے۔ایسا نہ ہو کہ ہماری عبادت میں کوئی روک پیدا ہو۔چنانچہ وہ خود ہی کہنے لگا آپ کو یہاں کوئی تکلیف نہیں ہو گی کیونکہ یہاں مسجد بھی ہے۔میں نے کہا کہ اچھا مجھے مسجد دکھاؤ۔اس نے مجھے مسجد دکھائی جو نہایت خوبصورت بنی ہوئی تھی مگر چھوٹی سی تھی۔ہماری مسجد مبارک سے نصف ہو گی لیکن اس میں چٹائیاں اور دریاں وغیرہ بچھی ہوئی تھیں۔اسی طرح ایک امام کی جگہ ایک صاف قالینی مصلی بھی بچھا ہوا تھا۔مجھے اس مسجد کو دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی اور میں نے کہا کہ ہمیں یہ جگہ منظور ہے۔ہے۔خواب میں میں نے یہ خیال نہیں کیا کہ مسجد وہاں کس طرح بنائی گئی ہے مگر بہر حال مسجد دیکھ کر مجھے مزید تسلی ہوئی اور میں نے کہا کہ اچھا ہوا