خطبات محمود (جلد 22) — Page 670
* 1941 670 خطبات محمود جو ہمارے مکانوں سے جنوب کی طرف ہے اور اس میں ایک بڑی بھاری عمارت ہے جو کئی منزلوں میں ہے۔اس کئی منزلہ عمارت میں میں بھی ہوں اور یوں معلوم ہوتا کہ یکدم غنیم حملہ کر کے آگیا ہے اور اس غنیم کے حملہ کے مقابلہ کے لئے ہم لوگ تیاری کر رہے ہیں۔میں اس وقت اپنے آپ کو کوئی کام کرتے نہیں دیکھتا مگر میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ میں بھی لڑائی میں شامل ہوں۔یوں اس وقت نے نہ تو ہیں دیکھی ہیں، نہ کوئی اور سامانِ جنگ۔مگر میں سمجھتا یہی ہوں کہ قسم کے آلات حرب استعمال کئے جارہے ہیں۔اسی دوران میں میں نے محسوس کیا کہ وہاں پٹرول کا ذخیرہ ختم ہو گیا ہے۔میں تیزی سے اتر کر نچلی منزل میں آتا ہوں اور کہتا ہوں پٹرول ختم ہو گیا ہے۔اس وقت میں خیال کرتا ہوں کہ ہمیں پٹرول موٹروں کے لئے نہیں چاہئے بلکہ دشمن پر پھینکنے کے لئے پٹرول کی ضرورت ہے۔چنانچہ مجھے کسی شخص نے بتایا کہ نیچے ایک تہہ خانہ ہے جس میں پٹرول موجود ہے اس پر ایک شخص اس تہہ خانہ میں گیا اور چھ گیلن پٹرول کی بیرل لے کر آ گیا۔ساتھ ہی اس کے دوسرے ہاتھ میں ایک سیڑھی ہے تاکہ سیڑھی کی مدد سے وہ اوپر چڑھ کر دشمن پر پٹرول پھینک سکے۔یہ دونوں چیزیں اٹھا کر اس نے اوپر چڑھنا شروع کر دیا اور اتنی تیزی سے وہ چڑھنے لگا کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ گر جائے گا۔چنانچہ میں اسے کہتا ہوں سنبھل کر چڑھو، ایسا نہ ہو کہ گر جاؤ اور خواب میں میں حیران بھی ہوتا ہوں کہ یہ کیسا بہادر آدمی ہے کہ اس کے ایک ہاتھ میں چھ گین یعنی تیس سیر پٹرول ہے، دوسرے ہاتھ میں سیڑھی وسرے ہاتھ میں سیڑھی ہے اور یہ اس بہادری سے چڑھتا چلا جاتا ہے۔پھر یہ نظارہ بدل گیا اور مجھے یوں معلوم ہوا کہ جیسے ہم اس مکان سے نکل آئے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دشمن غالب آگیا ہے اور ہمیں وہ جگہ چھوڑنی پڑی ہے۔باہر نکل کر ہم حیران ہیں کہ کس جگہ جائیں اور کہاں جا کر اپنی حفاظت کا سامان کریں۔اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ میں آپ کو ایک جگہ بتاتا ہوں آپ پہاڑوں پر چلیں وہاں ایک اٹلی کے پادری نے گرجا بنایا ہوا ہے