خطبات محمود (جلد 22) — Page 57
خطبات محمود 57 * 1941 ایک مثال لڑائی کی ہمارے سامنے ہے۔تجربہ سے ظاہر ہے کہ جو قوم حملہ کرتی ہے وہ زیادہ مطمئن ہوتی ہے بہ نسبت اس کے جو دفاع کرتی ہے۔اٹلی کو اس لڑائی میں پے در پے شکستیں ہو رہی ہیں۔ماہرین کی رائے اس کے متعلق یہ ہے کہ اٹلی کی فوجوں کو حملہ کرنا نہیں آتا وہ صرف دفاع کر سکتی ہیں اور اسی طرف متوجہ رہتی ہیں۔حملہ آور اگر دس ہوں اور دفاع کرنے والے ایک ہزار تو بھی ان کا پہلو کمزور رہے گا ان کو کھٹکا لگا رہے گا کہ معلوم نہیں دس حملہ آور کس طرف سے حملہ کریں۔جنوب سے کریں، شمال سے کریں، مشرق سے کریں یا مغرب سے۔اور پھر ان اطراف کے بھی کس گوشہ سے کریں۔ان میں سے ہر دس آدمی ہوشیار رہیں گے اور ڈرتے رہیں گے۔لیکن اگر ہزار نے دس پر حملہ کرنا ہو تو وہ اتنے پریشان نہیں ہوں گے۔دس پندرہ آدمی بھیج دیں گے کہ جا کر حملہ کر دو اور باقی اطمینان کے ساتھ بیٹھے رہیں گے مگر دفاع کرنے والے خواہ زیادہ ہی ہوں گھبراہٹ میں رہیں گے کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ حملہ کس طرف سے ہو گا۔یہی فرق خدا تعالیٰ کے ماننے اور نہ ماننے والوں میں ہے۔جو مانتا ہے اسے پتہ ہے کہ خطرہ کہاں سے آئے گا اور اس سے بچنے کا کیا طریق ہے۔مگر جو نہیں مانتا وہ صرف قیاسی گھوڑے دوڑاتا ہے۔وہ ہر ذرہ کو خدا سمجھتا اور اس سے ڈرتا ہے۔وہ قدم قدم پر امیدیں باندھتا اور قدم قدم پر ان کو مٹاتا ہے اور قدم قدم پر خوف اس کی جان نکالتا پس یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ اس نے آدم کے سن شعور کو پہنچنے کے ساتھ ہی اس پر الہام نازل کر کے اسے بتا دیا کہ یہ سب کچھ میری مخلوق اور تمہارے فائدہ کے لئے ہے اور پھر ہر نبی کے ذریعہ یہ پیغام پہنچاتا رہا اور اس زمانہ میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اس نے یہ آواز سنائی ہے۔بے شک کے ماننے والوں کو بھی خطرات پیش آتے ہیں مگر وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو دور کرنے اور اس کے انعامات کے وارث بننے کے کیا ذرائع ہیں۔ان کو اپنی غلطی کا علم ہو جائے تو وہ جانتے ہیں کہ اس کی اصلاح کیسے ہو سکتی ہے ا ہے۔اور