خطبات محمود (جلد 22) — Page 56
$1941 56 خطبات محمود نہ ہونے سے ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔لیکن اگر وہ ان چیزوں کو ہی خدا کا مرتبہ دیتا اور سمجھتا ہے کہ ان کا تعلق اس کی زندگی موت سے ہے یہ اس کے اور اس کے بیوی بچوں کے آرام و راحت پر اثر انداز ہوتی ہیں تو اسے دن رات ایک خلش گی کہ پتہ نہیں مجھے یہ چیزیں کیا نقصان پہنچائیں غیر معروف چیزیں معروف کی نسبت ہمیشہ زیادہ گھبراہٹ کا موجب ہوتی ہیں۔انسان سامنے آنے والے دشمن سے اتنا نہیں ڈرتا جتنا پوشیدہ سے۔لوگ تلوار کے ساتھ سامنے سے حملہ کرنے والے اتنا نہیں ڈرتے جتنا چور سے ڈرتے ہیں۔اس کی وجہ یہ نہیں کہ چور بڑا بہادر ہوتا ہے بلکہ بعض چور مسلول ہوتے ہیں بعض ایسے ہوتے ہیں کہ اگر ایک تندرست آدمی تھپڑ مارے تو چھ سات دانت ٹوٹ جائیں مگر پھر بھی لوگ چور سے بہت ڈرتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ علم نہیں ہوتا کہ وہ کہاں سے آئے گا کس طرح آئے گا، کس طرح نقصان پہنچائے گا۔ایک شخص بیمار ہوتا ہے ڈاکٹر بتا دیتا ہے کہ اسے پتھری ہے اور سب متعلقین کو گونہ اطمینان ہو جاتا ہے۔وہ سمجھ لیتے ہیں کہ بیماری کا پتہ لگ گیا اب ہسپتال جا کر اپریشن کرائے گا اور آرام ہو جائے گا۔لیکن ایک اور شخص کو معمولی بخار ہوتا ہے ڈاکٹر کہتا ہے کچھ پتہ نہیں لگتا کہ بخار کیوں ہوا؟ اور سب والے پریشان ہو جاتے ہیں۔یہ گھبراہٹ اس وجہ سے ہوتی ہے کہ بخار کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی مگر پتھری سے اتنی گھبراہٹ نہیں ہوتی کیونکہ اس کا پتہ لگ چکا ہے اور آدمی سمجھتا ہے کہ علاج سے اور آدمی سمجھتا ہے کہ علاج سے آرام ہو جائے گا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے ماننے والوں کو بھی بعض دفعہ گو گھبراہٹ ہوتی ہے کہ فلاں نافرمانی گئی ہے اس کی سزا نہ مل جائے۔ہم اپنے خالق کے منشاء کو اچھی طرح پورا کر سکیں گے یا نہیں مگر یہ معین حد تک ہوتی ہے لیکن جسے پتہ ہی نہیں کہ خدا تعالیٰ کیونکر ناراض ہوتا ہے اور اسے خوش کرنے کے ذرائع کیا ہیں؟ وہ کیا ذرائع اور اعمال ہیں جن سے انسان اللہ تعالیٰ سے قریب اور بعید ہو جاتا ہے ؟ اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اکیلا جنگل میں بیٹھا ہو، چاروں طرف سے آوازیں آ رہی ہوں کہ اس پر چور ڈاکو اور جانور حملہ کرنے والے ہیں مگر اسے پتہ نہ ہو کہ اس پر حملہ کب ہو گا؟ کس طرف سے ہو گا؟ شیر کرے گا یا بھیڑ یا، چور کرے گا یا کوئی درندہ؟ ہو