خطبات محمود (جلد 22) — Page 539
* 1941 539 خطبات محمود حیات کا موجب ہوتے رہتے ہیں۔مثلاً ماں باپ ہی ہیں۔وہ نئی نسلیں دنیا میں لاتے ہیں۔ڈاکٹر اور اطباء ہیں۔وہ مریضوں کا علاج کرتے ہیں۔اسی طرح قومی خدمات کرنے والے لوگ ہیں۔جو ڈوبتے ہوئے لوگوں کو بچاتے ہیں۔کہیں آگ لگ جائے تو بجھاتے ہیں۔اسی طرح اور کئی واقعات اور حادثات جو رونما ہوتے رہتے ہیں ان میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔یہ لوگ خدا تعالیٰ کی مخی صفت کے مورد ہوتے اور اس کی ایک مثال اور نمونہ ہوتے ہیں لیکن کئی لوگ دنیا میں ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا کام ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ تباہیاں اور بربادیاں اور ہلاکتیں لاتے رہیں۔کہیں ان کی وجہ سے قتل ہو رہے ہوتے ہیں، کہیں فساد ہو رہے ہوتے ہیں، کہیں غارت گری کے واقعات رونما ہو رہے ہوتے ہیں۔یہ لوگ خدا تعالیٰ کی ممیت صفت کو ظاہر کرنے والے ہوتے ہیں مگر خدا کی ہر صفت کی نقل کرنے والا انسان ضروری نہیں کہ خدا کا مقبول ہو۔خدا بے شک ہمیت ہے مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک قاتل کسی کو بلا وجہ قتل کر دے تو وہ یہ کہے کہ میں نے چونکہ فلاں شخص کو قتل کر کے خدا تعالیٰ کی صفت مُمِیت کا اپنے آپ کو مظہر ثابت کیا ہے۔اس لئے میں بڑا مقرب ہوں۔اگر وہ ایسا کہے گا تو اس کا دعویٰ بالکل غلط ہو گا کیونکہ بندے کو جن حالات میں ممیت بننے کا حق حاصل ہے۔ان حالات میں اگر وہ ممیت بنتا ہے۔تب تو بے شک وہ خدا تعالیٰ کا مقرب بن سکتا ب بن سکتا ہے لیکن اگر ان حالات میں وہ ہمیت نہیں بنتا تو وہ مقرب نہیں ہو سکتا۔اسی طرح ولادت خدا تعالیٰ کی احیاء کی صفت ہے مگر ناجائز ولادت کا موجب خد اتعالیٰ کی صفتِ مُحْی سے سے نسبت دے کر اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا مقرب نہیں کہہ سکتا۔غرض وہی شخص خدا تعالیٰ کی صفت کو پورا کرنے والا قرار پا سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قوانین کے ماتحت اس صفت کا مظہر بنتا ہے اگر وہ خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے قانون کے ماتحت مخی بنتا ہے۔تو بے شک وہ خدا تعالیٰ کا اس صفت میں مظہر بن سکتا ہے۔اسی طرح اگر وہ خدا تعالیٰ کی صفت ممیت کا مظہر اس رنگ میں