خطبات محمود (جلد 22) — Page 538
خطبات محمود 538 * 1941 ان کی وفات کی وجہ سے کہرام مچا ہوا ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ کے فرشتے ان کی صحبت کے خیال سے خوشی منا رہے ہوتے ہیں۔موت کیا ہے؟ موت اس دنیا سے اگلے جہان جانے کا ایک دروازہ ہے۔جس طرح جب کوئی مصلح یا محسن انسان لاہور میں نکلتا داخل ہوتا ہے تو وہاں کے رہنے والے خوشی مناتے ہیں لیکن جب لاہور سے تو لاہور والے رنج کا اظہار کرتے ہیں مگر آگے جب امرت سر میں داخل ہوتا ہے ہے تو امر تسر والے خوشی محسوس کرتے ہیں۔اسی طرح جب خدا تعالیٰ کے برگزیدہ اور چنندہ لوگ جو اپنی نیکی اور تقویٰ اور مقام قرب میں ملائکہ سے بڑھ کر بلکہ ملائکہ کو سبق دینے والے ہوتے ہیں۔جیسے حضرت آدم علیہ السلام کے واقعہ سے ظاہر ہے وفات پا جاتے ہیں تو دنیا کے لوگ تو ان کی وفات پر رنج کا اظہار کرتے ہیں اور اس بات پر عمگین ہوتے ہیں کہ وہ اپنا دور ختم کر کے اگلے جہان چلے گئے مگر فرشتے اس بات سے خوش ہوتے ہیں کہ اب وہ ہمارے ملک میں آ گئے ہیں۔رسول کریم صلی علیم کی وفات پر جب مدینہ میں کہرام پڑا ہوا تھا جنت کے لوگوں میں کتنی خوشی منائی جا رہی ہو گی۔لوگ خدا تعالیٰ کے کلام اور فرشتوں سے سنتے ہوں گے کہ خدا تعالیٰ کا ایک برگزیدہ دنیا میں پیدا ہو چکا ہے اور وہ بہت بلند روحانی مقامات رکھتا ہے۔ان باتوں کو سن سن کر جنتیوں کے دلوں میں کتنی خواہش پیدا ہوتی ہو گی اور وہ کس طرح اس بات کے تصور سے خوش ہوتے ہوں گے کہ کبھی یہ مبارک انسان ہم میں بھی آئے گا۔پس جب فرشتوں نے آپ کی روح قبض کی ہو گی اور جب جنتیوں کو پتہ لگا ہو گا کہ اب ان کی سالہا سال کی امیدیں بر آنے لگی ہیں تو انہوں نے کیسی خوشی ظاہر کی ہو گی۔مگر بہر حال یہ آسمان کی بات ہے۔زمین پر یہی ہوتا ہے کہ موت پر رنج کا اظہار کیا جاتا ہے اور ولادت پر خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے۔جس طرح خدا تعالیٰ کی یہ دو صفات ہمیں دنیا میں کام کرتی نظر آتی ہیں اسی طرح کئی انسان ایسے ہوتے ہیں جو دنیا کے لئے ولادت کا موجب بنتے یا اس کی