خطبات محمود (جلد 22) — Page 530
* 1941 530 خطبات محمود نہ کر سکے گا اور کہے گا کہ خدایا! میرا کوئی حق تو نہیں اور میں وعدہ بھی کر چکا ہوا ہوں لیکن اب رہا نہیں جاتا۔مجھے اگر اس درخت تلے رکھ دیا جائے تو بہت مہربانی ہو گی۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ پھر تو اور کچھ نہ مانگو گے؟ وہ کہے گا نہیں اور اسے وہاں رکھا جائے گا۔وہاں سے اسے جنت نظر آئے گی اور اس کی نعمتیں دکھائی دیں گی اور کچھ عرصہ صبر کرنے کے بعد وہ کہے گا کہ مجھے جنت کی ذلیل ترین جگہ میں رہنے کی اجازت دے دی جائے اور پھر میں کبھی کچھ نہ مانگوں گا۔حدیث میں آتا ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ ہنسے گا اور فرمائے گا کہ دیکھو میرے بندے کو جتنی زیادہ نعمت ملتی ہے اتنی ہی اس کی حرص بڑھتی ہے اور فرشتوں کو حکم دے گا کہ اسے جنت میں جو جگہ پسند ہو اُسے رہنے دیا جائے۔6 تو دیکھو دوزخ میں سب سے آخر رہنے والا انسان اور خدا تعالیٰ کی رحمت اس کے دل میں کس طرح خود ہی لالچ پیدا کرتی اور پھر اسے انعامات دیتی ہے۔درخت اگانے کے معنی دراصل یہی ہیں کہ انسان مانگے اور مانگتا جائے۔یہاں تک کہ اس مقام کو پالے جس کے لئے پیدا کیا گیا ہے جیسا کہ فرمایا وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلا لِيَعْبُدُونِ 7 یہ تمام واقعہ دراصل ایک تمثیل ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے بڑی سے بڑی نعمت سے بھی محروم رہنے کی کوئی وجہ نہیں۔خدا تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ایک شخص کو بلائے گا اور اسے کہے گا کہ تو نے یہ بدی کی یہ کی اور اس کی چھوٹی چھوٹی بدیاں گنوائے گا حالانکہ وہ اس سے بہت بڑے بڑے گناہ کر چکا ہوا ہو گا اور جب خدا تعالیٰ معمولی ا معمولی بدیاں گنوائے گا تو وہ دل میں ڈر رہا ہو گا کہ اب میرے بڑے بڑے گناہوں کی باری بھی آئے گی اور وہ اس تصور سے شرمندگی محسوس کر رہا ہو گا مگر اللہ تعالیٰ وہ چھوٹی چھوٹی بدیاں ہی گنوا کر فرمائے گا کہ جاؤ میں نے یہ سب معاف کیں اور ہر ایک کے بدلہ تمہیں دس گنا زیادہ ثواب بھی دیا۔اس پر وہ عرض کرے گا کہ حضور آپ تو میری بہت سی بدیاں بھول گئے۔میں نے تو فلاں قتل بھی کیا، فلاں ڈاکہ ڈالا، فلاں