خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 527 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 527

* 1941 527 خطبات محمود مجبور نہیں کر سکتا کہ وہ حکومت کے لئے دعا بھی کرے۔حضرت مسیح ناصری سے پوچھا گیا کہ قیصر کو جزیہ دینا روا ہے یا نہیں۔ہم دیں یا نہ دیں۔مسیح نے جواب میں کہا کہ جو قیصر کا ہے قیصر کو اور جو خدا کا ہے خدا کو ادا کرو۔”4 مگر انسانی دماغ کو اللہ تعالیٰ نے آزاد رکھا ہے اور وہ قید میں بھی آزاد ہوتا ہے۔دنیا کے بادشاہ ہتھکڑیاں لگا دیتے ہیں۔پاؤں میں بیڑیاں ڈال دیتے ہیں۔گلے میں طوق پہنا دیتے ہیں اور تنگ و تاریک کوٹھڑیوں میں بند کر دیتے ہیں۔مگر اس حالت میں بھی انسانی دماغ آزاد ہوتا ہے۔چاہے وہ 24 گھنٹہ بادشاہ کو گالیاں دے اسے کوئی نہیں روک سکتا۔پس اگر ہم چاہیں تو انگریزوں کے لئے بد دعا بھی کر سکتے ہیں اور کوئی قانون ہم کو ایسا کرنے سے روک نہیں سکتا بلکہ یہ جان بھی نہیں سکتا مگر باوجود اس کے کہ ہم ایسا کرنے میں آزاد ہیں اور کوئی قانون ہم سے ایسا نہ کرنے کا مطالبہ بھی نہیں کرتا پھر بھی ہم انگریزوں کے لئے دعائیں ہی کرتے ہیں اور انہیں اس کی پرواہ بے شک نہ ہو مگر ہم چاہیں تو بد دعا کر کے اپنے عقیدہ کی رُو سے ان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔مگر ہم ایسا کرتے نہیں اور میں اب بھی جماعت کو یہی نصیحت کرتا ہوں کہ ان ایام میں بھی وہ برطانیہ کی فتح کے لئے ہی دعائیں کریں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم سے ہمیں یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں ان کے لئے دعائیں کرنی چاہئیں اور جب تک ہمیں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ معلوم نہ ہو جائے کہ اب ان کے اس حق کا جس کی وجہ سے وہ دعاؤں کے مستحق تھے خاتمہ ہو چکا ہے دعائیں کرتے رہنا چاہئے۔پھر یہ بھی دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ جہاں ان کو طاقت دے وہاں ان کے دماغ بھی ٹھیک رکھے اور ظالم افسروں کو انصاف کی طرف مائل کر دے۔جب ہم کسی کے لئے یہ دعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اسے طاقت اور تلوار دے تو ساتھ ہی یہ دعا بھی ضرور کرنی چاہئے کہ اس کے صحیح استعمال کی توفیق بھی اسے ے۔ورنہ طاقت دلوا کر ہم لوگوں پر ظلم کرانے والے ہوں گے۔اسی لئے شریعت کا یہ حکم ہے کہ جب مسلمانوں کے ذریعہ کسی کو طاقت ملے تو اس کے لئے دعا بھی