خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 526 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 526

* 1941 526 خطبات محمود ے دو۔وہ ہمارے ساتھ چلے چلیں۔گورنر سفارش کر دے گا۔ورنہ تمام ملک پر آفت آ جائے اور عرب برباد ہو جائے گا۔آپ نے فرمایا کہ تم جاؤ اور گورنر کو میرا یہی جواب چلے گئے اور گورنر یمن کو یہ جواب پہنچا دیا۔اس نے کہا میں کچھ دن انتظار کروں گا حتی کہ ایران سے ڈاک آ جائے۔اگر یہ بات درست بات درست ہوئی تو میں بھی اس شخص پر ایمان لے آؤں گا اور اگر غلط ہوئی تو اللہ ہی عرب پر رحم کرے۔کیونکہ کسری تمام عرب کو تباہ کر دے گا۔چند روز کے بعد اسے اطلاع ملی کہ ایران سے ایک پیغامبر خاص جہاز میں آیا ہے اور اس کے نام بادشاہ کا خط لایا ہے۔اتنے میں پیغامبر خط لے کر آیا۔جب دستور کے مطابق گورنر اسے بوسہ دینے لگا تو اس نے دیکھا کہ اس پر مہر نئی تھی۔جب اسے کھولا تو معلوم ہوا کہ وہ نئے بادشاہ کی طرف سے تھا جو پہلے بادشاہ کا بیٹا تھا۔اس نے لکھا تھا کہ ہمارے باپ نے لوگوں پر بہت ظلم کئے تھے اور ملک کو تباہ کر رہا تھا اس لئے اپنے وطن کی مجبور ہو کر ہم نے فلاں رات اسے نے فلاں رات اسے قتل کر دیا۔(یہ وہی رات تھی آنحضرت صلی ا ظلم کو الہام ہوا تھا۔اب ہم بادشاہ ہیں۔اس لئے اب ہماری اطاعت کا سب سے اقرار لو۔نیز ہمارے باپ نے بے وقوفی سے عرب کے ایک شخص کی گرفتاری کا حکم دیا تھا حالانکہ اس کا کوئی قصور نہ تھا اس لئے ہم اس حکم کو بھی سے منسوخ کرتے ہیں۔3 تو جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد ہو اسے کوئی بڑی سے بڑی حکومت بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔اس لئے ہمیں ہر وقت اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرنی چاہئیں۔انگریزوں کی کامیابی کے لئے بھی ہمیں دعائیں کرنی چاہئیں گو پنجاب گورنمنٹ کے بعض افسروں کا سلوک ہم سے اچھا نہیں مگر برطانوی قوم میں ہمارے ست موجود ہیں اور جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی ممانعت نہ ہو ہمیں اس قوم کے لئے دعائیں کرنی چاہئیں۔دنیا کا کوئی قانون کسی کو اس بات پر